ایران نے امریکہ پر دوہرے معیار کی پالیسی اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے زمینی جارحیت کی کوشش کی تو تہران اس کا بھرپور جواب دے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طرز عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق قالیباف کا کہنا ہے کہ امریکہ ایک جانب مذاکرات کا راگ الاپ رہا ہے جبکہ دوسری جانب خفیہ طور پر زمینی حملے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔
قالیباف نے واضح کیا کہ دشمن کھلے عام مذاکرات کا پیغام دے رہا ہے لیکن پس پردہ زمینی کارروائی کے منصوبے بن رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی امریکی پیش قدمی کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور امریکی فوجیوں کی زمینی آمد کی منتظر ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور امریکی میڈیا میں پینٹاگون کی جانب سے ایران میں طویل زمینی آپریشن کی تیاریوں کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔ حال ہی میں امریکی فوج نے مشرق وسطیٰ میں 3500 میرینز کی تعیناتی کا اعلان بھی کیا ہے۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ دونوں جانب سے جاری سخت بیانات اور فوجی نقل و حمل خطے میں صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔
اگرچہ امریکی حکام کا موقف ہے کہ سفارتی دروازے کھلے ہیں تاہم ایرانی قیادت واشنگٹن کے حالیہ اقدامات کو جارحانہ عزائم کا شاخسانہ قرار دے رہی ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اس صورتحال پر جمی ہیں کہ آیا یہ کشیدگی مذاکرات کی میز تک پہنچے گی یا تعلقات مزید تنزلی کا شکار ہوں گے۔
