پیرس میں بینک آف امریکہ کے ہیڈ کوارٹر کے باہر دیسی ساختہ بم نصب کرنے کی کوشش کے الزام میں مزید دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ فرانسیسی سیکیورٹی حکام کے مطابق اس کیس میں اب تک ہونے والی گرفتاریوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
واقعہ ہفتے کی صبح ساڑھے تین بجے پیش آیا جب ایک مشتبہ شخص کو مشہور سیاحتی مقام شینز الیزے کے قریب واقع بینک کے دفتر کے باہر دھماکہ خیز مواد رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ اس دوران ایک دوسرا شخص بھی اس کے ساتھ موجود تھا جو موبائل فون کے ذریعے فوٹیج بنانے میں مصروف تھا، تاہم پولیس کے پہنچتے ہی وہ فرار ہو گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والے مرکزی ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ اسے اس کارروائی کے لیے سنیپ چیٹ کے ذریعے بھرتی کیا گیا تھا اور اسے اس کام کے بدلے تقریباً 692 امریکی ڈالر کی پیشکش کی گئی تھی۔ ملزم نے ابتدائی بیان میں خود کو سینیگال کا نابالغ شہری ظاہر کیا ہے، جس کی تصدیق کے لیے حکام کام کر رہے ہیں۔
ہفتے کی رات پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مزید دو افراد کو حراست میں لیا ہے، تاہم حکام نے ان کی شناخت یا اس سازش میں ان کے کردار کے بارے میں تاحال کوئی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔
فرانس کے نیشنل اینٹی ٹیررسٹ پراسیکیوٹر آفس نے واقعے کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان کے خلاف دہشت گردی کی منصوبہ بندی، دھماکہ خیز مواد کی تیاری، نقل و حمل اور دہشت گردی کے مقاصد کے لیے املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ پیرس پولیس اور فرانسیسی انٹیلی جنس ادارے مشترکہ طور پر اس معاملے کی گہرائی سے تفتیش کر رہے ہیں۔
