-Advertisement-

ویتنام: کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ ٹو لام بلامقابلہ صدر منتخب، اختیارات میں غیر معمولی اضافہ

تازہ ترین

اسلام آباد ہائی کورٹ کا عمران خان کی وکلاء سے ملاقات کرانے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف اور ان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کے درمیان ملاقات...
-Advertisement-

ویتنام کی پارلیمنٹ نے منگل کے روز کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل ٹو لام کو متفقہ طور پر ملک کا نیا صدر منتخب کر لیا ہے۔ وہ اگلے پانچ برسوں تک اس عہدے پر فائز رہیں گے جس کے بعد وہ کئی دہائیوں میں ویتنام کے سب سے طاقتور رہنما بن کر ابھرے ہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں موجود تمام چار سو پچانوے ارکان نے کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے ٹو لام کے نام کی توثیق کی۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی ویتنام میں اجتماعی قیادت کا روایتی نظام ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور تمام تر اختیارات ایک ہی شخصیت کے گرد مرکوز ہو گئے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ تبدیلی ملک کو چین کی طرز پر مزید آمرانہ نظام کی طرف لے جا سکتی ہے تاہم اس سے فیصلہ سازی کا عمل تیز تر ہونے کی توقع بھی ہے۔

ٹو لام، جو اس سے قبل پبلک سیکیورٹی کے سربراہ رہ چکے ہیں، اب بیک وقت پارٹی کے سیکریٹری جنرل اور صدر کے دوہرے عہدوں پر فائز ہیں۔ انہوں نے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں اس منصب کو اعزاز قرار دیتے ہوئے سائنس، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تبدیلی کو قومی ترقی کا محور بنانے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے دفاعی خود انحصاری اور پائیدار ترقی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے۔

سنگاپور کے انسٹی ٹیوٹ فار ساؤتھ ایسٹ ایشین اسٹڈیز کے ماہر لی ہونگ ہیپ کے مطابق اختیارات کا یہ ارتکاز جہاں پالیسیوں کے موثر نفاذ میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے وہیں اس سے ویتنام کے سیاسی نظام میں آمریت کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ امریکی تھنک ٹینک کے ماہر الیگزینڈر ویونگ کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی ویتنام کی سیاست کے پرانے مفروضوں کو ختم کر کے ایک نئے معمول کا آغاز ہے۔

اڑسٹھ سالہ ٹو لام کی جانب سے اقتصادی اصلاحات اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے سراہا گیا ہے، تاہم ان کی جانب سے سرکاری اداروں پر زور دینے کی حکمت عملی نے کچھ حلقوں میں کرپشن اور پسندیدہ نواز پالیسیوں کے خدشات بھی پیدا کیے ہیں۔ خارجہ محاذ پر ٹو لام اپنی بانس ڈپلومیسی یعنی توازن کی پالیسی کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں اور ان کے دوہرے کردار سے ویتنام کی عالمی تعلقات کی پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -