-Advertisement-

ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے قریب ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

تازہ ترین

جرمنی کا سوڈان کے لیے مزید 2 کروڑ یورو کی امداد کا اعلان

جرمنی نے سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے متاثرین کی مدد کے لیے مزید 20 ملین یورو کی ہنگامی...
-Advertisement-

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اپنے اختتامی مراحل کے قریب ہے۔ فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ تنازع ختم ہونے والا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکی آپریشنز ابھی مکمل نہیں ہوئے ہیں اور صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فوجی مہم کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا تھا کیونکہ ان کے بقول اگر امریکہ مداخلت نہ کرتا تو تہران اب تک جوہری صلاحیت حاصل کر چکا ہوتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی میں دو دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

امریکی صدر نے اشارہ دیا کہ ایران اب مذاکرات کے لیے زیادہ آمادہ دکھائی دیتا ہے اور ان کے خیال میں تہران کسی بڑے معاہدے کا خواہشمند ہے۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل پاکستان میں ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے دوسرے دور کے امکان کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کو نافذ ہوئے ایک ہفتہ گزر چکا ہے اور یہ تاحال برقرار ہے۔ اسلام آباد میں ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کرنے والے جے ڈی وینس نے کہا کہ واشنگٹن نے ایران کو اقتصادی تعلقات کی بحالی کی پیشکش کی ہے بشرطیکہ وہ عالمی اصولوں کے مطابق عمل کرے۔

نائب صدر نے زور دیا کہ امریکی انتظامیہ کسی چھوٹے معاہدے کے بجائے ایک جامع اور بڑے تصفیے کی خواہاں ہے جس کا بنیادی ہدف ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دور رکھنا ہے۔ جے ڈی وینس نے امریکی نوجوانوں کی جانب سے مشرق وسطیٰ کی پالیسی پر تنقید کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں اختلاف رائے کے باوجود سیاسی عمل میں شریک رہنے کی تلقین کی۔

ادھر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی جانب سے ماضی میں دیے گئے ان بیانات پر اب بھی بحث جاری ہے جن میں کہا گیا تھا کہ جنگ کے آغاز سے قبل ایسے کوئی شواہد موجود نہیں تھے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کر رہا تھا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -