-Advertisement-

ایران تیل کی برآمدات بند کیے بغیر دو ماہ تک کام چلا سکتا ہے، تجزیہ کار

تازہ ترین

پوپ لیو کا کیمرون میں عالمی رہنماؤں پر تنقید، دنیا کو ظالموں کے قبضے میں قرار دے دیا

پوپ لیو نے کیمرون کے دورے کے دوران عالمی رہنماؤں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا...
-Advertisement-

لندن (رائٹرز) ماہرین کے مطابق تیرہ اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے بعد ایران اپنی تیل کی برآمدات مکمل طور پر بند ہونے کی صورت میں دو ماہ تک پیداوار جاری رکھ سکتا ہے جس کے بعد اسے پیداوار میں کمی پر مجبور ہونا پڑے گا۔

اس ناکہ بندی کے باعث یومیہ تقریباً بیس لاکھ بیرل ایرانی خام تیل چین تک پہنچنے میں رکاوٹ کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے پیداوار بند کی جاتی ہے تو یہ علاقائی جنگ کے باعث پہلے سے متاثرہ ایک کروڑ بیس لاکھ بیرل یومیہ کی سپلائی میں مزید کمی کا باعث بنے گا جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

برآمدات رکنے کی صورت میں ایران کو اپنا خام تیل خشکی پر موجود سٹوریج ٹینکس میں منتقل کرنا پڑے گا اور ان ٹینکس کے بھر جانے کے بعد اوپیک کے رکن ملک کو اپنی پیداوار محدود کرنا ہوگی۔

مشاورتی ادارے ایف جی ای نیکسٹنٹ ای سی اے کے تخمینے کے مطابق ایران کے پاس خشکی پر تقریباً نو کروڑ بیرل تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران برآمدات کے بغیر اپنی موجودہ پینتیس لاکھ بیرل یومیہ پیداوار دو ماہ تک برقرار رکھ سکتا ہے جبکہ پیداوار میں معمولی کمی کے ساتھ اس دورانیے کو تین ماہ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب انرجی اسپیکٹس نامی ادارے نے ذخیرہ اندوزی کی صلاحیت کو تیس لاکھ بیرل تک محدود قرار دیا ہے۔ ادارے کے شریک بانی رچرڈ برونز کا کہنا ہے کہ اگر ناکہ بندی مئی تک جاری رہی تو ایران کو پیداوار میں نمایاں کمی کرنا ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران پیداوار میں کٹوتی سے بچنے کے لیے بندرگاہوں پر موجود آئل ٹینکرز کو فلوٹنگ اسٹوریج کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ناکہ بندی کے دوران اب تک آٹھ ایرانی جہازوں کو روکا جا چکا ہے۔ منگل کے روز ایک امریکی تباہ کن جہاز نے چاہ بہار بندرگاہ سے نکلنے والے دو ٹینکرز کو روک لیا تھا جبکہ بدھ کے روز چینی ملکیتی ٹینکر رچ سٹاری کو بھی آبنائے ہرمز سے واپس موڑ دیا گیا۔ اس معاملے پر تاحال ایرانی حکام کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -