-Advertisement-

امریکی پابندیوں کے باوجود تیل بردار جہازوں کی خلیج فارس میں آمد

تازہ ترین

پوپ لیو کا کیمرون میں عالمی رہنماؤں پر تنقید، دنیا کو ظالموں کے قبضے میں قرار دے دیا

پوپ لیو نے کیمرون کے دورے کے دوران عالمی رہنماؤں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا...
-Advertisement-

امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے دوسرے بڑے آئل ٹینکر نے آبنائے ہرمز کے راستے خلیج میں داخلہ حاصل کر لیا ہے۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق یہ پیشرفت امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود سامنے آئی ہے جس کا مقصد ایرانی بندرگاہوں پر آنے والے جہازوں کو روکنا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد اتوار کو اس ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا ہے کہ پیر سے شروع ہونے والی ناکہ بندی کے بعد سے اب تک دس جہازوں کو واپس موڑا گیا ہے اور کسی بھی جہاز کو ناکہ بندی توڑنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

تاہم فارس نیوز ایجنسی نے بدھ کے روز رپورٹ کیا کہ امریکی پابندیوں کا شکار ایک ایرانی سپر ٹینکر آبنائے عبور کر کے امام خمینی بندرگاہ کی جانب بڑھا ہے۔ دوسری جانب ایل ایس ای جی اور کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق دو ملین بیرل تیل لے جانے کی صلاحیت رکھنے والا خالی سپر ٹینکر آر ایچ این بھی بدھ کو خلیج میں داخل ہوا، تاہم اس کی حتمی منزل تاحال واضح نہیں ہے۔

اس سے قبل منگل کے روز امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والا ٹینکر ایلیسیا بھی آبنائے ہرمز سے گزرا تھا جو کہ عراق کی جانب رواں دواں ہے۔ کیپلر کے ڈیٹا کے مطابق دونوں ٹینکرز ماضی میں ایرانی تیل کی ترسیل میں ملوث رہے ہیں۔ ناکہ بندی کے باعث واپس لوٹنے والے جہازوں میں رچ سٹاری بھی شامل ہے جو بدھ کو دوبارہ خلیج میں داخل ہوا۔

واشنگٹن کی جانب سے ایرانی تیل کے خریداروں پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی گئی ہے تاکہ آئندہ مذاکرات میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کیا جا سکے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی سے ایران کی خام تیل کی برآمدات میں کمی کا خدشہ ہے، تاہم ایران اپنے ساحلی ٹینکوں میں تیل ذخیرہ کر کے تین اعشاریہ پانچ ملین بیرل یومیہ کی موجودہ پیداوار کو کچھ ہفتوں تک برقرار رکھ سکتا ہے۔

کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق ایران نے مارچ میں ایک اعشاریہ آٹھ چار ملین بیرل یومیہ خام تیل برآمد کیا، جبکہ اپریل میں اب تک یہ شرح ایک اعشاریہ سات ایک ملین بیرل یومیہ رہی ہے۔ تہران کے ذرائع کے مطابق ایران نے مذاکرات کے دوران یہ تجویز پیش کی ہے کہ اگر تنازع سے بچنے کا معاہدہ طے پا جائے تو وہ جہازوں کو آبنائے ہرمز کے عمانی حصے سے بلا روک ٹوک گزرنے کی اجازت دینے پر غور کر سکتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -