-Advertisement-

چین کے سنکیانگ خطے میں جبر کیخلاف مظاہرے پر قازقستان میں 19 افراد کو سزا

تازہ ترین

ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان دس روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا...
-Advertisement-

قازقستان کی ایک عدالت نے چین کے صوبے سنکیانگ میں بیجنگ کے کریک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کرنے والے انیس کارکنوں کو سزا سنا دی ہے۔ انسانی حقوق کے ماہرین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قازق حکومت کی جانب سے بیجنگ کے دباؤ پر اپنے شہریوں کی آواز دبانے کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔ سزا پانے والے تمام افراد قازق شہری ہیں جنہوں نے گزشتہ برس نومبر میں چین کے ساتھ سرحد کے قریب مظاہرہ کیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے تحت گیارہ کارکنوں کو اشتعال انگیزی پھیلانے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، جبکہ دیگر آٹھ افراد کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ اس قانونی پیش رفت کی تصدیق کارکنوں کے وکیل شینقوات بائیژان نے کی ہے۔ مظاہرین نے احتجاج کے دوران چینی پرچم نذر آتش کیے تھے اور چینی صدر شی جن پنگ کی تصاویر کی بے حرمتی کرتے ہوئے سنکیانگ میں زیر حراست قازق شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

ہیومن رائٹس واچ کے محقق یالکون اولویول کے مطابق یہ ایک غیر معمولی اقدام ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ قازقستان بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے شہریوں کی آزادی کو قربان کرنے کے لیے تیار ہے۔ اطلاعات کے مطابق قازق حکومت نے یہ کارروائی الماتی میں قائم چینی قونصل خانے کی جانب سے موصول ہونے والے ایک سفارتی مراسلے کے بعد شروع کی۔ اس مراسلے میں احتجاج کو چینی قومی وقار کے خلاف اشتعال انگیزی قرار دیا گیا تھا۔

سزا پانے والے افراد کا تعلق اتاژورت نامی تنظیم سے ہے جو چین میں مقیم قازق نژاد شہریوں کے حقوق کے لیے کام کرتی ہے۔ سنکیانگ میں لاکھوں ایغور، قازق اور دیگر مسلم اقلیتیں سخت حکومتی کنٹرول میں ہیں۔ اگرچہ قازق حکومت ماضی میں عوامی ہمدردی کے پیش نظر اس تنظیم کی سرگرمیوں کو ایک حد تک برداشت کرتی رہی ہے، تاہم اب حالات تبدیل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اتاژورت کے بانی سیرکژان بیلاش، جو اس وقت جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ ان گرفتاریوں کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس کارروائی سے دنیا سنکیانگ میں جاری انسانی المیے کو جاننے کے ایک بڑے ذریعے سے محروم ہو جائے گی۔ چینی وزارت خارجہ نے اس عدالتی فیصلے کو قازقستان کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے اسے ایک دوستانہ ہمسایہ ملک قرار دیا ہے۔ قازق وزارت خارجہ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -