جنیوا میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ترجمان بابر بلوچ نے پریس بریفنگ کے دوران انکشاف کیا ہے کہ سن 2025 روہنگیا مہاجرین کے لیے سمندری راستے پر سفر کے لحاظ سے تاریخ کا مہلک ترین سال ثابت ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس بحیرہ انڈمان اور خلیج بنگال میں تقریباً 900 روہنگیا مہاجرین لاپتہ یا ہلاک ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کل 6500 روہنگیا مہاجرین نے سمندری راستے سے نقل مکانی کی کوشش کی تھی، جن میں سے ہر سات میں سے ایک سے زائد فرد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا یا لاپتہ ہو گیا۔ یہ شرح دنیا بھر میں پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے سمندری سفر کے دوران ہونے والی ہلاکتوں میں سب سے زیادہ ہے۔
اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور ان خطرناک سفروں کے دوران ہونے والی اموات کی بلند شرح نے انسانی حقوق کے سنگین بحران کو اجاگر کر دیا ہے۔
