ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا ہے کہ تہران کسی بھی عارضی جنگ بندی کو مسترد کرتا ہے اور خطے میں جاری کشیدگی کے مکمل اور مستقل خاتمے کا خواہاں ہے۔ انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی کا اطلاق لبنان سے بحیرہ احمر تک تمام تنازعات والے علاقوں پر ہونا چاہیے اور یہ تہران کے لیے ایک سرخ لکیر کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ ہم کسی عارضی وقفے کو قبول نہیں کریں گے کیونکہ تنازعات کا یہ سلسلہ اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو جانا چاہیے۔ انہوں نے اس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سراہا۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے سعید خطیب زادہ نے کہا کہ یہ آبی گزرگاہ تاریخی طور پر کھلی رہی ہے اور یہ ایران کی علاقائی حدود میں ہونے کے باوجود ہمیشہ عالمی تجارت کے لیے قابل رسائی رہی ہے۔ انہوں نے خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اقدامات عالمی تجارت اور معیشت کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر آبنائے ہرمز کے لیے سیکیورٹی، محفوظ گزرگاہ اور ماحولیاتی تحفظات سمیت نئے انتظامات متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تنازع کا دیرپا حل اور امریکا کی جانب سے انتہا پسندانہ موقف میں تبدیلی ہی اس تجارتی راستے کو مستحکم رکھ سکتی ہے۔
ادھر پاکستان کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر بدھ سے تہران کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقاتیں کی ہیں۔ آرمی چیف نے اعلیٰ ایرانی عسکری حکام کے ساتھ بھی مذاکرات کیے ہیں جو تنازع ختم کرانے کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں کا حصہ ہیں۔
پاکستان اس سے قبل بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کر چکا ہے جس کے نتیجے میں آٹھ اپریل کو چودہ روزہ جنگ بندی عمل میں آئی تھی۔ یہ جنگ بندی 28 فروری سے ایران کے خلاف شروع ہونے والے امریکی و اسرائیلی فوجی آپریشن کے تناظر میں کی گئی تھی۔
ترکیہ میں جاری انطالیہ ڈپلومیسی فورم 17 سے 19 اپریل تک جاری رہے گا جس میں عالمی رہنما اور اعلیٰ حکام خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی چیلنجز پر غور کر رہے ہیں۔
