سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو راولپنڈی کے نجی ہسپتال میں آنکھ کی سرجری کے بعد واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ جیل حکام کے مطابق بشریٰ بی بی کو ایک رات ہسپتال میں زیر نگرانی رکھنے اور ضروری طبی معائنوں کے بعد واپس جیل منتقل کیا گیا ہے۔
جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی نے دائیں آنکھ سے دھندلا دکھائی دینے کی شکایت کی تھی جس کے بعد ماہر امراض چشم نے ان کا معائنہ کیا اور ریٹینا ڈیٹیچمنٹ کی تشخیص کی۔ ڈاکٹروں کی جانب سے فوری سرجری کی تجویز کے بعد وہ جمعرات کی شام ہسپتال منتقل کی گئی تھیں۔
آپریشن پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی اور ماہرین کی ٹیم نے انجام دیا۔ حکام کے مطابق سرجری سے قبل بشریٰ بی بی کی رضامندی حاصل کی گئی تھی۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کے بعد پوسٹ آپریٹو معائنے مکمل کر لیے گئے ہیں اور جیل میں قید کے دوران ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق ان کا علاج جاری رہے گا۔
پاکستان تحریک انصاف نے بشریٰ بی بی کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بروقت طبی امداد کی فراہمی پر زور دیا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان میں کہا کہ انہیں بشریٰ بی بی کی منتقلی سے متعلق آگاہ کیا گیا تھا اور وہ ان کی صحت کے حوالے سے اپ ڈیٹس کے منتظر ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا کہ بشریٰ بی بی اور عمران خان کو اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور طبی ضروریات کے مطابق انہیں بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔
واپسی کے بعد اڈیالہ جیل میں بشریٰ بی بی کی ان کی بیٹیوں اور بہن مریم ریاض وٹو سے ملاقات بھی کرائی گئی۔ یہ ملاقات خصوصی انتظامات کے تحت ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی۔
بشریٰ بی بی اس وقت 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس اور توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا کاٹ رہی ہیں۔ ان کی حراست اور طبی سہولیات کے حوالے سے ماضی میں بین الاقوامی سطح پر بھی تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے ماہرین کی جانب سے بھی قید کے دوران انسانی حقوق اور صحت کے معیارات کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
