پوپ لیو چہار دہم نے کیمرون کے دورے کے دوران مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی تنازعات، خوف اور تشدد کو ہوا دے سکتی ہے۔ مئی 2025 میں منصب سنبھالنے کے بعد سے پوپ متعدد بار مصنوعی ذہانت کے حوالے سے احتیاط کا مشورہ دے چکے ہیں، تاہم ان کا یہ تازہ ترین بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ متنازع تصویر پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
یاؤنڈے میں کیتھولک یونیورسٹی آف سینٹرل افریقہ کے طلبہ اور اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے پوپ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا چیلنج بظاہر نظر آنے سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ محض نئی ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں بلکہ حقیقت کو مصنوعی نقالی سے تبدیل کرنے کا عمل ہے، جس سے معاشرے میں پولرائزیشن اور تشدد پھیل رہا ہے۔ پوپ کے مطابق اس سے سچائی کے ساتھ انسانی تعلق کی بنیاد ہی تبدیل ہو رہی ہے۔
کیمرون کے اقتصادی دارالحکومت دوالا میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد عقیدت مندوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پوپ نے عالمی امن کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے بڑھتے ہوئے لفظی تناؤ کے سائے میں ہو رہا ہے۔ ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی پالیسی پر تنقید کے بعد ٹرمپ نے پوپ کو خارجہ پالیسی کے لیے تباہ کن قرار دیا تھا۔ جواب میں ٹرمپ نے اپنی ایک ایسی اے آئی تصویر شیئر کی تھی جس میں انہیں یسوع مسیح سے تشبیہ دی گئی تھی، جسے بعد ازاں توہین مذہب کے الزامات کے بعد ہٹا دیا گیا۔
پوپ لیو نے اپنے دورے کے دوران ماحولیاتی تباہی پر بھی کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے لیے ضروری نایاب دھاتوں کے نکالنے سے ہونے والے نقصان کی مذمت کی اور کہا کہ غیر ملکی طاقتیں افریقہ کے وسائل لوٹ رہی ہیں جبکہ مقامی آبادی مشکلات کا شکار ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے افریقہ میں معدنیات کے حوالے سے حکمت عملی پر پوپ کی یہ تنقید کافی اہم سمجھی جا رہی ہے۔
کیمرون میں پوپ کا پرتپاک استقبال کیا گیا جہاں لاکھوں افراد نے ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے طویل انتظار کیا۔ تاہم، کیمرون کے صدر پال بیا کی طویل المدتی حکومت کے ناقدین کا ماننا ہے کہ پوپ کا یہ دورہ حکومتی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ صدر بیا 1982 سے اقتدار میں ہیں اور ان کی حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے سنگین الزامات ہیں۔
پوپ لیو چہار دہم اپنے 11 روزہ افریقی دورے کے اگلے مرحلے میں انگولا جائیں گے اور اپنے 18 ہزار کلومیٹر طویل سفر کا اختتام ایکواٹوریل گنی میں کریں گے۔ اس سے قبل ان کا دورہ الجزائر دو خودکش دھماکوں کے باعث متاثر ہوا تھا۔
