امریکی محکمہ خارجہ کے اعلیٰ سطحی وفد نے گزشتہ ہفتے سرکاری طیارے کے ذریعے کیوبا کا دورہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کیوبا کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس دورے کا مقصد سفارتی رابطوں کا آغاز کرنا ہے۔
دورے کے دوران ایک امریکی سفارت کار نے سابق صدر راؤل کاسترو کے پوتے راؤل گیلرمو روڈریگز کاسترو سے ملاقات کی۔ راؤل گیلرمو کو کیوبا کی موجودہ حکومت میں ایک بااثر شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ سن 2016 میں سابق صدر باراک اوباما کے دورے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی حکومت کا کوئی طیارہ کیوبا میں اترا ہے۔
مذاکرات کے دوران امریکی وفد نے کیوبا پر زور دیا کہ وہ سیاسی اور اقتصادی اصلاحات نافذ کرے۔ امریکی وفد نے کیوبا میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی دہرایا اور پیشکش کی کہ کیوبا کو ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس سٹارلنک تک رسائی دی جا سکتی ہے۔
محکمہ خارجہ کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ وفد نے کیوبا پر واضح کیا ہے کہ ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے اور حکمران اشرافیہ کے پاس امریکی حمایت یافتہ اصلاحات کے لیے بہت کم وقت بچا ہے۔ امریکی موقف ہے کہ صدر ٹرمپ سفارت کاری کے ذریعے معاملات حل کرنا چاہتے ہیں تاہم اگر کیوبا کے رہنماؤں نے اقدامات نہ کیے تو امریکا اسے اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے نہیں دے گا۔
کیوبا کو اس وقت شدید توانائی بحران کا سامنا ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ نے ان ممالک پر بھاری ٹیرف لگانے کی دھمکی دی ہے جو کیوبا کو تیل برآمد کرتے ہیں۔ اس دباؤ کے بعد تیل کی ترسیل عملی طور پر رک چکی ہے۔ صدر ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں کیوبا کو ناکام ریاست قرار دیتے ہوئے فوجی مداخلت کا عندیہ بھی دیا ہے۔
کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کانیل نے جمعرات کو ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ کیوبا کسی بھی ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ صدر ڈیاز کانیل نے کہا کہ وہ جنگ نہیں چاہتے لیکن اسے روکنا اور اگر یہ ناگزیر ہو جائے تو اسے شکست دینا ان کا فرض ہے۔
