اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کا دو ارب ڈالر کا قرض ادا کر دیا ہے۔ یہ ادائیگی اپریل کے مہینے میں مجموعی طور پر ساڑھے تین ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق اس بڑی ادائیگی کے باوجود ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔
اسٹیٹ بینک کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ بیرونی ادائیگیوں کے لیے تمام تر انتظامات مکمل ہیں اور ملکی ذمہ داریاں وقت پر پوری کی جا رہی ہیں۔ متحدہ عرب امارات کو ساڑھے تین ارب ڈالر کی ادائیگی تین مراحل میں مکمل کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں گیارہ اپریل کو چار سو پچاس ملین ڈالر ادا کیے گئے تھے جبکہ دو ارب ڈالر کی تازہ ترین قسط سترہ اپریل کو ادا کی گئی۔ آخری ایک ارب ڈالر کی قسط تیئس اپریل کو ادا کی جائے گی۔
یہ قرض دو ہزار انیس میں پاکستان کی معاشی مشکلات کے دوران توازن ادائیگی میں مدد کے لیے لیا گیا تھا۔ ابوظہبی کی جانب سے سالانہ کے بجائے ماہانہ بنیادوں پر قرض رول اوور کرنے کی پالیسی کے بعد پاکستان نے یہ رقم مکمل طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس دوران پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے دیگر اقدامات بھی جاری ہیں۔ سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ کے ساتھ تین ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی توسیع کا معاہدہ کیا گیا ہے جس پر دستخط واشنگٹن میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے موسم بہار کے اجلاسوں کے دوران کیے گئے۔ اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بھی موجود تھے۔ اس سے قبل مرکزی بینک نے پندرہ اپریل کو سعودی عرب سے دو ارب ڈالر کی وصولی کی تصدیق بھی کی تھی۔
مزید برآں پاکستان نے ایک روز قبل یورو بانڈ کے ذریعے پانچ سو ملین ڈالر کی رقم بھی حاصل کی ہے جس سے ملکی لیکویڈیٹی کی صورتحال مزید بہتر ہوئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ بھاری ادائیگیوں کے باوجود ملکی بیرونی کھاتے قابو میں ہیں اور کافی مالیاتی انتظامات موجود ہیں۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ اسلام آباد معاشی چیلنجز کے باوجود اپنی مالی ذمہ داریوں کی تکمیل اور زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
