-Advertisement-

آبنائے ہرمز میں بھارتی جہازوں پر حملہ، بھارت نے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا

تازہ ترین

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ طے نہ ہو سکی

اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی امریکی ایرانی مذاکرات کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔...
-Advertisement-

بھارت نے آبنائے ہرمز میں اپنے پرچم بردار دو تجارتی جہازوں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد نئی دہلی میں تعینات ایرانی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر لیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق سیکریٹری خارجہ نے ایرانی سفیر کے ساتھ ملاقات میں واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

ملاقات کے دوران بھارتی سیکریٹری خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ تجارتی جہازوں اور عملے کی حفاظت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے ایران کو ماضی میں بھارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حمل میں تعاون کی یاد دہانی کراتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایرانی حکام اس واقعے کا نوٹس لیں اور بھارت جانے والے جہازوں کی آبنائے سے محفوظ گزرگاہ کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے۔ ایرانی سفیر نے بھارتی خدشات کو تہران تک پہنچانے کا یقین دلایا ہے۔

حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ہفتے کے روز خام تیل لے جانے والے بھارتی جہاز سانمار ہیرالڈ کو آبنائے ہرمز عبور کرنے کے دوران نشانہ بنایا گیا۔ ٹینکر ٹریکنگ سروسز کے اعداد و شمار کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے دو بھارتی جہازوں کو زبردستی واپس مغرب کی جانب موڑ دیا۔

رپورٹس کے مطابق ان جہازوں میں ایک وی ایل سی سی سپر ٹینکر بھی شامل ہے جو عراقی تیل کے 20 لاکھ بیرل لے کر جا رہا تھا۔ بین الاقوامی میری ٹائم ڈسٹریس چینل پر ریکارڈ کی گئی آوازوں سے تصدیق ہوئی ہے کہ جہازوں پر فائرنگ کی گئی۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی پابندیوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ ایرانی مسلح افواج کے پاس آ گیا ہے۔ اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھلا قرار دیا تھا تاہم تازہ ترین پیش رفت نے خطے میں کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -