جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج یونفیل کے قافلے پر حملے کے نتیجے میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ جنوبی لبنان کے گاؤں غندوریہ میں پیش آیا جہاں امن دستے ایک بند راستے کو کھولنے کے مشن پر مامور تھے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والے اہلکار کی شناخت سارجنٹ میجر فلورین مونٹوریو کے طور پر ہوئی ہے جو 17 ویں پیراشوٹ انجینئر رجمنٹ سے وابستہ تھے۔ فرانسیسی حکام اور یونفیل نے ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں اس کارروائی کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔
فرانسیسی وزیر دفاع کیتھرین ووٹورن کے مطابق امن دستوں کے گشت پر چھوٹے ہتھیاروں سے براہ راست فائرنگ کی گئی۔ صدر میکرون نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے لبنانی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کرے۔ فرانسیسی صدر کا کہنا ہے کہ شواہد حزب اللہ کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب حزب اللہ نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ غندوریہ میں پیش آنے والے واقعے میں کسی بھی قسم کی شمولیت کی تردید کرتے ہیں۔ حزب اللہ نے فریقین پر زور دیا کہ وہ حقائق واضح ہونے سے قبل جلد بازی میں الزامات عائد کرنے سے گریز کریں۔ تنظیم نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ اسرائیلی حملوں پر خاموش رہنے والے حلقے اب فوری طور پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔
لبنانی فوج اور اعلیٰ حکام نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ لبنانی صدر جوزف عون اور وزیراعظم نواف سلام نے ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اسی اثنا میں اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جنوبی لبنان میں ایک دہشت گرد سیل کے ارکان کو ہلاک کیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ اسے اپنے دفاع کے لیے کارروائی کا مکمل حق حاصل ہے۔ واضح رہے کہ 16 اپریل کو امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان دس روزہ جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا جس کا مقصد امن مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔
