ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ہفتے کی شب ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں پیش رفت تو ہوئی ہے تاہم فریقین ابھی حتمی معاہدے سے بہت دور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ امور پر اتفاق رائے ہوا ہے لیکن بہت سے بنیادی نکات پر اب بھی اختلافات برقرار ہیں۔
دوسری جانب امریکہ نے تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایرانی تعلق رکھنے والے بحری جہازوں کو قبضے میں لینے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے بین الاقوامی پانیوں میں ایرانی ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو روکنے کے لیے منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔ یہ اقدامات ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی اور معاشی پابندیوں کو مزید سخت کرنے کا حصہ ہیں۔
کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران نے ہفتے کے روز آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ یہ اقدام امریکی بحری ناکہ بندی کے جواب میں کیا گیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے ایک سخت بیان میں خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے کسی بھی جہاز کو دشمن کا ساتھی تصور کیا جائے گا اور اسے نشانہ بنایا جائے گا۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ جب تک امریکی ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یورپی یونین پر منافقت کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالس کے اس بیان کو مسترد کر دیا جس میں آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر زور دیا گیا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ یورپی یونین بین الاقوامی قانون کی آڑ میں دوہرا معیار اپنا رہی ہے اور امریکی و اسرائیلی جارحیت پر خاموش ہے۔
محمد باقر قالیباف نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کو تہران کی اسٹریٹجک فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ دشمن کے پاس دولت اور ہتھیار موجود ہیں لیکن تزویراتی اعتبار سے اسے شکست کا سامنا ہے۔ دریں اثنا، ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور جہاز رانی کرنے والی کمپنیاں صرف پاسدارانِ انقلاب کے سرکاری ذرائع سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔
