-Advertisement-

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے لیے پرامید ہیں: ترک وزیر خارجہ

تازہ ترین

ایران سے مذاکرات: امریکی وفد کل اسلام آباد پہنچے گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کے نمائندے پیر کی شام اسلام آباد پہنچیں گے...
-Advertisement-

ترکی نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری دو ہفتوں پر محیط جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے پرامید ہونے کا اظہار کیا ہے۔ یہ جنگ بندی بدھ کے روز ختم ہو رہی ہے۔ انطالیہ ڈپلومیسی فورم سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ کوئی بھی فریق جنگ بندی کے خاتمے کے بعد نئی جنگ کا آغاز نہیں دیکھنا چاہتا، اس لیے انہیں قوی امید ہے کہ متعلقہ فریقین اس وقفے کو مزید بڑھا دیں گے۔

ہاکان فیدان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کا عمل بڑی حد تک مکمل ہو چکا ہے، تاہم کچھ معاملات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان اختلافات کے باوجود جنگ بندی میں توسیع ناگزیر ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود جنوبی لبنان میں زمینوں پر قبضے کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے اسرائیلی توسیع پسندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لبنان میں حقائق کو زبردستی تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کی وجہ سے عالمی توجہ لبنان کی صورتحال سے ہٹ رہی ہے اور اسرائیل اس غفلت کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے۔

اس سے قبل 15 اپریل کو ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی کہا تھا کہ انقرہ، امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ ایران کا پڑوسی ملک ہونے کے ناطے ترکی اس معاملے پر امریکہ، ایران اور ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ ترکی نے بارہا اس جنگ کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -