-Advertisement-

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے زیر قبضہ علاقوں کا نقشہ جاری کر دیا

تازہ ترین

کینیڈا کے امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات کمزوری بن چکے ہیں، وزیراعظم کارنی

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات جو...
-Advertisement-

اسرائیلی فوج نے لبنان میں اپنی نئی تعیناتی کے نقشے کو پہلی بار جاری کیا ہے جس کے تحت سرحد کے اندر پانچ سے دس کلومیٹر تک کا علاقہ ان کے کنٹرول میں آ گیا ہے۔ یہ پیش رفت حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے چند روز بعد سامنے آئی ہے۔ اس اقدام سے متعدد لبنانی دیہات اسرائیلی فوج کے زیر اثر آ گئے ہیں جہاں تل ابیب مبینہ طور پر بفر زون قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق پانچ ڈویژن اور بحری افواج جنوبی لبنان میں دفاعی لائن کے جنوب میں کارروائی کر رہی ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ اس کا مقصد حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنا اور شمالی اسرائیل کی آبادی کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ تاہم اسرائیلی حکام نے اس سوال پر خاموشی اختیار کر لی ہے کہ آیا اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے والے لبنانی شہری واپس لوٹ سکیں گے یا نہیں۔

لبنانی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ دیہات تک شہریوں کی رسائی بحال ہوئی ہے تاہم زیادہ تر علاقوں میں اسرائیلی فوج اب بھی داخلے پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے واضح کیا ہے کہ سرحد پر موجود جن گھروں کو حزب اللہ استعمال کرتی رہی ہے انہیں مسمار کیا جائے گا اور ہر اس راستے یا عمارت کو تباہ کر دیا جائے گا جو اسرائیلی فوج کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

یاد رہے کہ دو مارچ کو حزب اللہ کی جانب سے تہران کی حمایت میں کارروائیوں کے بعد لبنان جنگ کی لپیٹ میں آیا تھا۔ لبنانی حکام کے مطابق اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں 177 بچوں سمیت 2100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ 12 لاکھ سے زائد شہری بے گھر ہوئے۔

دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ دو مارچ سے اب تک لبنان میں اس کے 15 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ حزب اللہ نے اپنے نقصانات کی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کیں تاہم ذرائع کے مطابق مارچ کے اختتام تک تنظیم کے کم از کم 400 جنگجو مارے جا چکے تھے۔ حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے راکٹ اور ڈرون حملوں میں دو شہری ہلاک ہوئے۔

یہ جنگ بندی معاہدہ 14 اپریل کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان دہائیوں بعد ہونے والے براہ راست مذاکرات کے بعد طے پایا تھا جس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان وسیع تر مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔ تاہم زمینی حقائق یہ ہیں کہ اسرائیلی فوج اب بھی جنوبی لبنان کے گہرے علاقوں میں اپنی پوزیشنیں برقرار رکھے ہوئے ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -