-Advertisement-

12 ارب روپے مالیت کی نئی حب کینال ناکام، پرانی نہر بحال کر دی گئی

تازہ ترین

کینیڈا کا امریکہ پر انحصار اب کمزوری بن چکا ہے، مارک کارنی

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اتوار کے روز ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ...
-Advertisement-

بارہ ارب روپے سے زائد کی لاگت سے تعمیر کی گئی حب کینال کی ناکامی کے بعد کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے ضلع غربی اور وسطی میں پانی کی شدید قلت پر قابو پانے کے لیے پرانی حب کینال کو بحال کر دیا ہے۔

اگست 2025 میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے افتتاح کردہ اس نئے منصوبے کے بارے میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے دعویٰ کیا تھا کہ اس سے حب ڈیم سے یومیہ 100 ملین گیلن پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ تاہم ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ تاحال نامکمل ہے اور افتتاح کے باوجود اس کا تقریباً 20 فیصد کام تشنہ تکمیل ہے۔

گزشتہ سات ماہ کے دوران ڈیزائن اور تعمیراتی نقائص کے باعث نئی نہر سے شہر کو صرف 35 سے 50 ملین گیلن یومیہ پانی مل رہا تھا۔ گزشتہ ماہ پرانی نہر کی مرمت کے بعد اسے دوبارہ فعال کیا گیا تو پانی کی فراہمی فوری طور پر 100 ملین گیلن یومیہ تک پہنچ گئی جس کی تصدیق واٹر کارپوریشن کے پمپنگ اسٹیشنز پر بھی ہوئی ہے۔

حب کا نظام 1980 کی دہائی میں واپڈا نے تعمیر کیا تھا جو 30 کلومیٹر پر محیط ہے، جس میں سے 22 کلومیٹر کا انتظام واٹر کارپوریشن جبکہ 8 کلومیٹر واپڈا کے پاس ہے۔ 12 اعشاریہ 7 ارب روپے کا حالیہ بحالی منصوبہ 2024 میں شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد نئی نہر کی تعمیر اور پرانی کی مرمت تھی، تاہم وقت سے پہلے افتتاح کے چکر میں کام کے معیار کو نظر انداز کیا گیا۔

انجینئرز کا کہنا ہے کہ نئی نہر میں ڈھلوان کے غلط ڈیزائن، ناقص کنٹریکٹ اور تعمیراتی کوتاہیوں کے باعث 50 سے 70 ملین گیلن تک پانی ضائع ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق پرانے نظام کی تعمیراتی مضبوطی اور گریویٹی بیسڈ ڈیزائن جدید دور کی ناقص منصوبہ بندی سے کہیں بہتر ثابت ہوا ہے۔

واپڈا حکام نے اپنے زیر انتظام 8 کلومیٹر حصے میں کسی بھی قسم کے لیکیج کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کو مکمل 100 ملین گیلن پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

منصوبے کے بقیہ کاموں میں زیرو پوائنٹ ریزروائر، گیٹس کی تنصیب اور ہائیڈرولک لیولز کی درستگی شامل ہے جس کے لیے حکام نے مزید 6 سے 8 ماہ کا وقت مانگا ہے۔ پراجیکٹ مینیجر مصطفیٰ منگن نے اس حوالے سے موقف دینے سے گریز کیا ہے۔

واٹر کارپوریشن کے ترجمان کے مطابق کراچی کی یومیہ ضرورت 1200 ملین گیلن ہے جبکہ اسے دھابیجی، گھارو اور حب سسٹم سے مجموعی طور پر 650 ملین گیلن پانی مل رہا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ وفاقی منظوری کے بعد حب ڈیم سے پانی کی فراہمی بڑھائی جا سکتی ہے اور مستقبل میں پرانی اور نئی دونوں نہریں متوازی طور پر کام کریں گی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -