کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اتوار کے روز ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کینیڈا کے گہرے معاشی تعلقات، جو ماضی میں ایک طاقت سمجھے جاتے تھے، اب کمزوری بن چکے ہیں جنہیں درست کرنا ناگزیر ہے۔
تقریباً دس منٹ طویل اس خطاب میں کارنی نے کہا کہ دنیا پہلے سے زیادہ خطرناک اور منقسم ہو چکی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکہ نے تجارتی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی لاتے ہوئے محصولات کی شرح کو عظیم معاشی بحران کے دور کی سطح پر پہنچا دیا ہے۔
وزیراعظم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ محصولات کو آٹو اور اسٹیل کی صنعتوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر یقینی صورتحال کے باعث کاروباری طبقہ سرمایہ کاری سے گریز کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کینیڈا کے بارے میں صدر ٹرمپ کے یہ ریمارکس کہ کینیڈا کو امریکی ریاست بن جانا چاہیے، عوام میں شدید غم و غصے کا باعث بنے ہیں۔
مارک کارنی نے عزم ظاہر کیا کہ کینیڈا اپنی معیشت کو امریکہ پر انحصار سے نکال کر متنوع بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تحفظ کے لیے حقیقت پسندی ضروری ہے اور وہ مشکلات کو چھپانے کے بجائے عوام کو حقائق سے آگاہ رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امید رکھنا کوئی منصوبہ نہیں اور ماضی کی یادوں پر جینا کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کینیڈا نے عالمی جنگوں اور افغانستان سمیت دیگر تنازعات میں امریکہ کا ساتھ دیا ہے تاہم اب امریکہ کی بدلتی ہوئی پالیسیوں کے پیش نظر کینیڈا کو اپنے دفاع، سرحدوں اور مستقبل کا کنٹرول خود سنبھالنا ہوگا۔
کارنی نے واضح کیا کہ امریکہ کے معمول پر آنے کا انتظار کرنا ایک غیر عملی سوچ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا کو اپنی توانائیاں داخلی استحکام، صاف توانائی کے فروغ، ٹیکسوں میں کمی اور رہائشی سہولیات کی فراہمی پر مرکوز کرنی ہوں گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کے درمیان شمالی امریکی آزاد تجارتی معاہدے کا نظرثانی عمل جولائی میں متوقع ہے۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ کینیڈا کو اب تنہا اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا کیونکہ بیرونی رکاوٹوں کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہے، البتہ ملکی سطح پر مضبوط معیشت کی تعمیر سے بیرونی دباؤ کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
