چین نے خلیج عمان میں امریکی بحری افواج کی جانب سے ایرانی کارگو جہاز کو قبضے میں لینے کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بیجنگ نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی بڑھانے سے گریز کریں اور آبنائے ہرمز میں معمول کی صورتحال بحال کرنے کے لیے سازگار ماحول پیدا کریں۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گیو جیاکون نے بیجنگ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک اہم آبی گزرگاہ ہے اور اس کا استحکام پوری عالمی برادری کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فورسز کی جانب سے ایرانی جہاز پر زبردستی قبضے پر چین کو تشویش ہے اور فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی بحریہ نے خلیج عمان میں امریکی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز توسکا کو روک کر اسے ناکارہ بنا دیا ہے اور اب جہاز امریکی میرینز کی تحویل میں ہے۔ امریکی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس سپروینس نے انتباہ کے باوجود جہاز نہ رکنے پر اسے قبضے میں لیا۔
چینی ترجمان نے امید ظاہر کی کہ امریکہ اور ایران اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں گے، جنگ بندی پر کاربند رہیں گے اور کشیدگی کو روک کر مذاکرات کے لیے راستہ ہموار کریں گے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی دو ہفتہ وار جنگ بندی بدھ کی صبح ختم ہونے جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ اٹھائیس فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے تہران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا جس کے جواب میں ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ آٹھ اپریل کو لڑائی رکنے کے بعد گیارہ اور بارہ اپریل کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات ہوئے تھے جو کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے۔
صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی مذاکرات کاروں کی ٹیم پیر کے روز دوسرے دور کے مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچے گی، تاہم تہران نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے نئے دور میں شرکت کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں کیا ہے۔
