-Advertisement-

بلغاریہ کے صدارتی انتخابات: روس نواز سابق فائٹر پائلٹ رومن رادیف کی بھاری اکثریت سے کامیابی

تازہ ترین

ایران، امریکہ مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس، پاکستان کی ثالثی کی پیشکش

اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں ایران اور...
-Advertisement-

بلغاریہ میں سابق فائٹر پائلٹ رومن رادیف نے اتوار کے روز ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ رادیف نے جنوری میں صدارتی عہدہ چھوڑ کر پارلیمانی سیاست میں قدم رکھا تھا اور انتخابی مہم کے دوران انہوں نے ملک کو کرپٹ افسران، سازشی عناصر اور انتہا پسندوں سے نجات دلانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

عوام کی جانب سے ملنے والے بھاری مینڈیٹ کے بعد اب رادیف تین دہائیوں میں بلغاریہ کی پہلی سنگل پارٹی حکومت تشکیل دینے کے اہل ہو گئے ہیں۔ یہ کامیابی گزشتہ پانچ برسوں میں ہونے والے آٹھ انتخابات کے بعد ملک میں سیاسی استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

باسٹھ سالہ رادیف نے اپنی جیت کو خوف پر آزادی اور بے یقینی پر امید کی فتح قرار دیا ہے۔ نو برس تک ملک کے علامتی سربراہ رہنے والے رادیف نے اس وقت پارلیمانی سیاست میں انٹری دی جب ملک میں روایتی سیاسی جماعتوں کے خلاف عوامی غصہ عروج پر تھا۔

انتخابی نتائج کے مطابق سابق وزیر اعظم بوئیکو بورسوف کی حامی جماعت گیرب اور ڈیلیان پیوسکی کی زیر قیادت موومنٹ فار رائٹس اینڈ فریڈمز کو بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رادیف کی کامیابی کی بڑی وجوہات میں بدعنوانی کے خلاف ناکام کوششوں پر عوامی مایوسی، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روس نواز جذبات شامل ہیں۔

رادیف نے اپنی انتخابی مہم کے دوران یوکرین کے لیے فوجی امداد کی مخالفت کی اور جنوری میں بلغاریہ کی جانب سے یورو کرنسی اپنانے کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔ ان کی مہم کے دوران روس کے ساتھ قریبی تعلقات کے اشارے بھی سامنے آئے ہیں، جس سے مغربی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق رادیف کے لیے سب سے بڑا چیلنج یورپی یونین کے اس غریب ترین اور کرپشن سے متاثرہ رکن ملک میں اصلاحات کا نفاذ ہے۔ بلغاریہ میں یورپی فنڈز کے غلط استعمال اور عوامی ٹھیکوں میں دھاندلی کے الزامات طویل عرصے سے ایک سنگین مسئلہ رہے ہیں۔

رادیف اب اپنی حکومت کی ساکھ کو مستحکم کرنے کے لیے دیگر یورپی رہنماؤں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر توجہ مرکوز کریں گے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اگرچہ رادیف کے بیانات روس نواز رہے ہیں، تاہم یورپی یونین سے ملنے والی امداد کو خطرے میں ڈالنا ان کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -