ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اسکولوں میں پیش آنے والے حالیہ پرتشدد واقعات کے پیش نظر اسلحہ رکھنے کے قوانین کو مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انقرہ میں ایک بیان کے دوران صدر اردوان نے کہا کہ حکومت ان والدین کے خلاف سزاؤں میں اضافہ کرے گی جن کے بچے ان کے اسلحہ تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان واقعات کے تناظر میں انٹرنیٹ کی نگرانی کے لیے بھی اضافی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
جنوبی مشرقی صوبے کہرامن مرعش میں پیش آنے والے المناک واقعے میں آٹھ طلباء اور ایک استاد جاں بحق ہو گئے۔ کہرامن مرعش کے گورنر مکرم انلور کے مطابق حملہ آور آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا جو اپنے بیگ میں اسلحہ چھپا کر اسکول لایا تھا۔ گورنر نے بتایا کہ حملہ آور سابق پولیس اہلکار کا بیٹا تھا اور اس کے پاس پانچ پستول اور سات میگزین موجود تھے۔
گورنر مکرم انلور نے میڈیا کو بتایا کہ حملہ آور نے دو کلاس رومز میں داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حملہ آور طالب علم بھی ہلاک ہو چکا ہے تاہم اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ اس کی موت خودکشی تھی یا افراتفری کے دوران پیش آئی۔
ترکیہ میں اسکولوں کے اندر تشدد کے ایسے واقعات انتہائی نایاب ہیں جس کی وجہ سے پوری قوم صدمے میں ہے۔ مقامی میڈیا اور آئی ایچ اے نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ فوٹیج میں اسکول کے باہر غمزدہ والدین کو دیکھا جا سکتا ہے جو اپنے بچوں کی خیریت جاننے کے لیے موقع پر پہنچے تھے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فائرنگ کی آوازیں انتہائی شدید تھیں۔
