-Advertisement-

سندھ حکومت کی نئی گندم پالیسی سے چھوٹے کاشتکاروں کو فائدہ ہوگا: شرجیل میمن

تازہ ترین

یوکرین کے لیے 90 ارب یورو کے قرض کی منظوری کا امکان، یورپی یونین پرامید

لکسمبرگ میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ...
-Advertisement-

سندھ حکومت نے گندم کی خریداری پالیسی میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے کاشتکاروں کو بڑی ریلیف فراہم کر دی ہے۔ گندم کی فروخت پر عائد پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں جبکہ فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط بھی اٹھا لی گئی ہے۔

سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ چھوٹے کسانوں کے مفاد میں کیا گیا ہے۔ اب کاشتکار کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے بغیر اپنی فصل سرکاری مراکز پر فروخت کر سکیں گے۔ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی ہے اور 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی خریداری کا ہدف طے کیا گیا ہے۔

شرجیل انعام میمن نے ہدایت کی ہے کہ گندم کی خریداری مہم کو تیز کیا جائے اور جن اضلاع میں خریداری کی رفتار سست ہے وہاں خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ بینک کے ذریعے کاشتکاروں کو ایندھن پر سبسڈی کی فوری فراہمی شفافیت اور کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اربوں روپے کی بروقت ادائیگیاں کسانوں کا حکومت پر اعتماد بحال کر رہی ہیں۔

صوبائی وزیر نے ضلعی انتظامیہ اور اسسٹنٹ کمشنرز کو فیلڈ میں متحرک رہنے کا حکم دیا ہے تاکہ کسانوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کاشتکاروں سے اپیل کی کہ وہ اپنی گندم سرکاری مراکز پر ہی فروخت کریں تاکہ انہیں فوری ادائیگیاں اور حکومتی سہولیات میسر آ سکیں۔

حکومت سندھ کا عزم ہے کہ کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ اور صوبے میں غذائی تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -