-Advertisement-

پوپ لیو کا انتباہ: جنگوں اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی سے انسانیت کا مستقبل خطرے میں

تازہ ترین

پنجاب: سیکیورٹی کمپنیوں اور گارڈز کی رجسٹریشن کے لیے ڈیجیٹل نظام کا آغاز

پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں نجی سیکیورٹی کمپنیوں اور گارڈز کی رجسٹریشن کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف...
-Advertisement-

پوپ لیو نے افریقی ممالک کے اپنے چار روزہ دورے کے دوران استوائی گنی میں ایک اہم خطاب میں خبردار کیا ہے کہ جاری جنگوں اور بین الاقوامی قوانین کی پامالی کے باعث انسانیت کا مستقبل شدید خطرات کی زد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی ذمہ داریوں کے حوالے سے رویوں میں تبدیلی نہ لائی گئی اور عالمی معاہدوں کا احترام نہ کیا گیا تو انسانی بقا داؤ پر لگ جائے گی۔

پوپ نے قدرتی وسائل بالخصوص تیل اور معدنیات کے لیے جاری نوآبادیاتی سوچ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے خونی تنازعات کی بنیادی وجہ قرار دیا۔ استوائی گنی کے صدر تھیوڈورو اوبیاں اینگوئما مباسوگو اور دیگر رہنماؤں کے سامنے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ خدا غلبہ پانے کی خواہش، تکبر اور امتیاز کو پسند نہیں کرتا۔ انہوں نے زور دیا کہ خدا کے مقدس نام کو کسی بھی صورت میں موت اور تباہی کے فیصلوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

اپنے افریقی دورے کے دوران پوپ لیو نے آمرانہ رویوں کے خلاف سخت موقف اپنایا ہے۔ انگولا سے مالابو روانگی کے دوران انہوں نے اپنے پیشرو پوپ فرانسس کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔ اس سے قبل انگولا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ دنیا میں بڑی تعداد میں لوگ آمروں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہیں اور امیر طبقے انہیں دھوکہ دے رہے ہیں۔

پوپ کی جانب سے مذہب کو تشدد کے جواز کے طور پر استعمال کرنے پر تنقید کو اہم سیاسی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے لیے مذہبی زبان کے استعمال کے تناظر میں دیا گیا ہے۔ پوپ لیو نے گزشتہ ماہ بھی خبردار کیا تھا کہ خدا ان حکمرانوں کی دعائیں قبول نہیں کرتا جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہوں۔

استوائی گنی کے دورے کے دوسرے مرحلے میں پوپ لیو بدھ کے روز باٹا شہر میں ایک ہائی سیکیورٹی جیل کا دورہ کریں گے، جسے انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سیاسی قیدیوں کی بدترین تنصیبات میں سے ایک قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ 2021 میں ایک فوجی بیرک میں ہونے والے دھماکوں کے مقام پر بھی جائیں گے جن میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انسانی حقوق کے کارکن ان دھماکوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -