پاکستان اور ایران کے مابین کشیدگی میں کمی اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے ڈیڈ لائن قریب آتے ہی غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔ ایران کی جانب سے اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات کے لیے وفد بھیجنے کی باضابطہ تصدیق کا تاحال انتظار ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے منگل کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایرانی وفد کی شرکت کے حوالے سے تہران سے حتمی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی ہیں۔
موجودہ جنگ بندی 22 اپریل کی صبح 4 بجکر 50 منٹ پر ختم ہو رہی ہے۔ پاکستان بطور ثالث دونوں ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور مذاکرات کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن اور تہران پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے گنجائش پیدا کرنے کی خاطر جنگ بندی میں توسیع کریں۔ اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر سے ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ تنازعات کا واحد حل سفارتکاری اور بات چیت میں مضمر ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست رابطوں کی ضرورت پر زور دیا اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا۔ امریکی حکام نے خطے میں امن کے فروغ اور مذاکرات کی سہولت کاری کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا ہے۔
پاکستان کی جانب سے اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، تاہم اعلیٰ سطح کے وفود کی آمد کے حوالے سے تاحال حتمی صورتحال واضح نہیں ہے۔ سفارتی ذرائع محتاط پرامیدی کا اظہار کر رہے ہیں کہ ایران مذاکرات میں شرکت کر سکتا ہے۔
کچھ اطلاعات کے مطابق اگر مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو مستقبل میں امریکی قیادت بھی اس عمل کا حصہ بن سکتی ہے۔ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے پیش نظر اس میں توسیع کو مذاکرات کو زندہ رکھنے اور خطے میں دوبارہ کشیدگی کو روکنے کے لیے ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔
