-Advertisement-

آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت بدستور معطل، 24 گھنٹوں میں صرف 3 جہاز گزر سکے

تازہ ترین

ایران کے ساتھ مذاکرات غیر یقینی، امریکی وفد کے سربراہ واشنگٹن میں موجود

امریکہ اور ایران کے درمیان متوقع امن مذاکرات کے حوالے سے شدید غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ واشنگٹن سے...
-Advertisement-

آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کا عمل تقریباً معطل ہو کر رہ گیا ہے اور تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صرف تین بحری جہاز ہی اس اہم آبی گزرگاہ سے گزر سکے۔ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے بعد تہران کی جانب سے بھی آبنائے پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

شپنگ ڈیٹا کے مطابق منگل کے روز این اسپر نامی ٹینکر نے ہرمز کا راستہ اختیار کیا، جبکہ لیان اسٹار نامی کارگو جہاز بھی ایک ایرانی بندرگاہ سے روانہ ہوا۔ اس کے علاوہ میڈا نامی ایل پی جی ٹینکر نے پیر کے روز دوسری کوشش میں خلیج سے نکلنے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ تعداد 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے قبل روزانہ گزرنے والے 140 جہازوں کے مقابلے میں انتہائی معمولی ہے۔

شپ بروکر بی آر ایس کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے ناکہ بندی کے باعث اب جہازوں کے لیے گزرنا خطرناک اور مشکل ہو چکا ہے۔ اس وقت خلیج کے اندر سینکڑوں جہاز اور 20 ہزار سے زائد ملاح پھنسے ہوئے ہیں جو سفر جاری رکھنے سے قاصر ہیں۔ اقوام متحدہ کی شپنگ ایجنسی کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومنگیز نے سنگاپور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملاحوں کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا، کیونکہ گزشتہ ہفتے کچھ جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

ادھر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے خطرے میں پڑنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ تہران نے نئے امن مذاکرات میں شرکت پر آمادگی ظاہر نہیں کی، جبکہ امریکی فوج نے بین الاقوامی پانیوں میں ایران سے منسلک ایک ٹینکر کو قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران کی فوج نے اس دعوے کے برعکس کہا ہے کہ ایک ایرانی ٹینکر امریکی نیول ٹاسک فورس کی دھمکیوں کے باوجود بحیرہ عرب سے اپنی حدود میں داخل ہونے میں کامیاب رہا۔

شپنگ ماہرین کے مطابق اس وقت 61 غیر ایرانی سپر ٹینکرز خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں، جن میں سے 50 جہاز تیل سے لدے ہوئے ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی شدید قلت کے پیش نظر ان جہازوں کی بندش عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -