-Advertisement-

ایران کے ساتھ مذاکرات غیر یقینی، امریکی وفد کے سربراہ واشنگٹن میں موجود

تازہ ترین

امریکہ کی ایران کو اسلحہ فراہم کرنے والوں پر نئی پابندیاں عائد

امریکہ نے منگل کے روز ایران کے لیے ہتھیاروں کے حصول میں مدد فراہم کرنے والے 14 افراد اور...
-Advertisement-

امریکہ اور ایران کے درمیان متوقع امن مذاکرات کے حوالے سے شدید غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ واشنگٹن سے امریکی وفد کی روانگی اب تک نہیں ہو سکی ہے، جبکہ تہران نے بھی مذاکرات میں شرکت کے بارے میں حتمی فیصلے کو تاحال مؤخر کر رکھا ہے۔

فریقین کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے کے وقت پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق دو ہفتے کی جنگ بندی منگل کی شب بارہ بجے ختم ہو رہی ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا موقف ہے کہ یہ وقفہ بدھ کی شام واشنگٹن کے وقت کے مطابق ختم ہوگا۔

پاکستان، جو ان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، نے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی منگل کی شب گیارہ بج کر پچاس منٹ پر ختم ہو جائے گی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو وفد کی قیادت کے لیے اسلام آباد پہنچنا تھا، مگر منگل کی سہ پہر تک وہ روانہ نہ ہو سکے۔ وائٹ ہاؤس کے حکام کا کہنا ہے کہ نائب صدر فی الحال پالیسی اجلاسوں میں مصروف ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران نے تاحال شرکت کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے اس تاخیر کی وجہ امریکی جانب سے متضاد پیغامات اور ناقابل قبول اقدامات کو قرار دیا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن کی پوزیشن بہت مضبوط ہے اور ایران کے پاس معاہدے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی میں توسیع کریں اور سفارت کاری کو موقع دیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق پاکستان کو تہران کی جانب سے کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا ہے اور وقت کی کمی کے باعث فیصلہ انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ تہران دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں کرے گا اور تنازع دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں میدانِ جنگ میں نئے آپشنز استعمال کرے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنبیہ کی ہے کہ اگر جنگ بندی ختم ہوئی تو بڑے پیمانے پر بمباری کا آغاز ہو جائے گا اور ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ معاہدے تک جاری رہے گا۔

دریں اثنا، امریکی محکمہ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایران کی حمایت یافتہ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایک مشکوک بحری جہاز کو روکا ہے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے پہلے دور کے بعد سے دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں اور کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -