امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کی جانب سے کی گئی درخواست کے بعد کیا گیا ہے تاکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات کو مزید وقت مل سکے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر انہوں نے ایران پر حملے کو موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ توسیع اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایرانی قیادت کی جانب سے ایک متفقہ تجاویز کا مسودہ پیش نہیں کیا جاتا اور مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے۔
تاہم امریکی صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ جنگ بندی کے باوجود امریکی فوج ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ برقرار رکھے گی اور اپنی عسکری تیاریوں کو مکمل رکھے گی۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی بحری محاصرے کو جنگی اقدام قرار دیتے ہوئے اسے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ امریکی اقدامات اور متضاد پیغامات کی وجہ سے مذاکرات میں تعطل پیدا ہو رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنے مفادات کا تحفظ کرنا جانتا ہے۔
پاکستان نے اس نازک صورتحال میں سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات اور سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے جنگ بندی میں توسیع کو یقینی بنائیں۔
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے تاحال غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی ونس کی قیادت میں وفد کی روانگی کے حوالے سے حتمی تصدیق نہیں ہوئی ہے، جبکہ ایران نے بھی دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ایران کے اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوئی تو ایران میدان جنگ میں نئے کارڈز دکھائے گا۔ اس سے قبل امریکی محکمہ دفاع نے ایرانی سرگرمیوں سے منسلک ایک بحری جہاز کو روکے جانے کی تصدیق بھی کی ہے۔
