بحر الکاہل کے دور دراز ممالک عالمی ایندھن کے شدید بحران کی لپیٹ میں ہیں، جس کے باعث مقامی حکومتیں توانائی کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہیں۔ اس صورتحال نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے، جہاں ایندھن کی قلت اور مہنگائی کے باعث خوراک اور طبی سہولیات تک رسائی بھی مشکل ہو گئی ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جہاں سے دنیا بھر کا تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے۔ اس خلل کے باعث عالمی منڈی میں سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
پاپوا نیو گنی میں عالمی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے آغاز سے اب تک ڈیزل، پیٹرول اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں 70 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ ورلڈ ویژن کے آپریشن ڈائریکٹر گاڈفرے بونگومین کے مطابق کمیونٹیز کا انحصار کشتیوں کے ذریعے نقل و حمل پر ہے، ایندھن مہنگا ہونے سے دیہی مراکز تک خوراک پہنچانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
طبی سہولیات تک رسائی محدود ہونے کے باعث مریضوں نے ہسپتال جانا چھوڑ دیا ہے، جس سے ایچ آئی وی اور تپ دق کے مریضوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے مطابق بحر الکاہل کے جزائر بجلی پیدا کرنے کے لیے دنیا بھر میں سب سے زیادہ ڈیزل پر انحصار کرتے ہیں۔
کیپلر شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق 2025 میں ان ممالک نے سنگاپور اور جنوبی کوریا سے تقریباً 22 لاکھ میٹرک ٹن ایندھن درآمد کیا، تاہم اپریل کے نصف اول میں درآمدات مارچ کے مقابلے میں صرف ایک چوتھائی رہ گئی ہیں۔ پاپوا نیو گنی میں 40 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، جس سے خطے میں معاشی بحران کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے ڈپٹی چیف اکانومسٹ عبد العابد کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی ہو بھی جائے تب بھی قیمتوں کو پرانی سطح پر آنے میں وقت لگے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کئی ممالک کی جی ڈی پی کا 8 سے 11 فیصد حصہ ایندھن کی درآمدات پر مشتمل ہے، جبکہ ٹوالو کے لیے یہ شرح 27 فیصد تک ہے۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے کہا ہے کہ بیجنگ تمام فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ عالمی توانائی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ ادھر کیریٹاس انٹرنیشنل اور سیو دی چلڈرن جیسے اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ سفر کے کرایوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے نے کم آمدنی والے خاندانوں کی کمر توڑ دی ہے۔
بحر الکاہل کے جزائر فورم نے کورونا وبا کے بعد پہلی بار ہنگامی ردعمل کا طریقہ کار فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کریباتی میں لوگ کام اور اسکول جانے سے قاصر ہیں، جبکہ ٹوالو اور مارشل آئی لینڈز میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ کوک آئی لینڈز، ناورو اور پاپوا نیو گنی ایندھن کی قیمتوں پر سبسڈی دے رہے ہیں اور عوام سے ذخیرہ اندوزی نہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
فجی میں وزراء نے ایندھن کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے اپنی تنخواہوں میں 20 فیصد کٹوتی پر اتفاق کیا ہے، جس کی پارلیمنٹ سے منظوری باقی ہے۔ نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے واشنگٹن کے دورے کے دوران امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو سے بحر الکاہل کے لیے ایندھن کی فراہمی پر بات کی ہے، جبکہ آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ وہ مدد کے طریقے تلاش کر رہا ہے لیکن اس کی اولین ترجیح ملکی سپلائی ہے۔ ایپسکوپل کانفرنس آف دی پیسیفک کی سیکریٹری جنرل للیان بنگ کے مطابق اس بحران کا سب سے زیادہ بوجھ عام تنخواہ دار طبقے اور کمزور کمیونٹیز پر پڑ رہا ہے۔
