لبنان اور اسرائیل کے سفیروں کے درمیان ہونے والے مذاکرات اب وائٹ ہاؤس میں منعقد ہوں گے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود ان نمائندوں کا استقبال کریں گے۔ ایک امریکی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ ان اہم مذاکرات کا مقام آخری لمحات میں تبدیل کیا گیا ہے جو پہلے محکمہ خارجہ میں طے تھے۔
مذاکرات کا آغاز مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے متوقع ہے۔ وائٹ ہاؤس کے حکام نے اناطولیہ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ امریکی وفد کی قیادت کے حوالے سے ابھی حتمی تفصیلات واضح نہیں ہیں، تاہم نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کو وائٹ ہاؤس میں داخل ہوتے دیکھا گیا ہے۔
اس سے قبل محکمہ خارجہ نے بتایا تھا کہ امریکی وفد میں اسرائیل کے لیے امریکی سفیر مائیک ہکابی اور لبنان کے لیے امریکی سفیر مشیل عیسیٰ شامل ہوں گے۔ یہ ملاقات لبنان کی سفیر ندا حمادہ معوض اور اسرائیلی سفیر یحیل لیٹر کے درمیان گزشتہ دو ہفتوں میں ہونے والی دوسری بات چیت ہے۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان، جن کے باہمی سفارتی تعلقات نہیں ہیں، مذاکرات کا پہلا دور 14 اپریل کو محکمہ خارجہ میں ہوا تھا جو تین دہائیوں سے زائد عرصے بعد ہونے والی پہلی براہ راست بات چیت تھی۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والی دس روزہ جنگ بندی اتوار کو ختم ہو رہی ہے۔ سولہ اپریل سے نافذ العمل ہونے والی یہ جنگ بندی انتہائی کشیدہ صورتحال میں قائم ہے۔
دو مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک بائیس سو سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ دس لاکھ سے زائد شہری نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ یہ حملے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کا تسلسل ہیں، جو امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود جاری ہیں۔
