-Advertisement-

برطانیہ: لیبر پارٹی کو مقامی انتخابات میں بدترین شکست کا سامنا، وزیراعظم کی قیادت پر دباؤ میں اضافہ

تازہ ترین

روسی حملے کی صورت میں امریکی وفاداری پر پولینڈ کے وزیراعظم کو شکوک و شبہات

پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کے لیے سب سے اہم اور بنیادی سوال...
-Advertisement-

برطانوی لیبر پارٹی کو مقامی انتخابات میں اپنی تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے بعد وزیراعظم کیئر سٹارمر کی قیادت پر دباؤ میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ گارڈین کی جانب سے پولنگ ڈیٹا کے تجزیے کے مطابق سات مئی کو انگلینڈ، ویلز اور سکاٹ لینڈ میں ہونے والے انتخابات میں لیبر پارٹی کا ووٹ بینک ریکارڈ نچلی سطح پر آنے کا خدشہ ہے۔

انتخابی جائزے بتاتے ہیں کہ لیبر پارٹی کو سب سے بڑا دھچکا ویلز میں لگ سکتا ہے جہاں وہ 1999 سے اقتدار میں ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ پارٹی کی حمایت نصف سے بھی کم رہ سکتی ہے جس کے بعد وہ ریفارم یو کے اور پلائیڈ کیمرو کے بعد تیسرے نمبر پر جا سکتی ہے۔

انگلینڈ میں لیبر پارٹی کو 136 کونسل انتخابات میں سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ روایتی گڑھ سمجھے جانے والے لندن اور شمالی علاقوں میں بھی ووٹرز اب ریفارم یو کے، گرین پارٹی، لبرل ڈیموکریٹس اور آزاد امیدواروں کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اسٹیفن فشر کی انتخابی ماڈلنگ کے مطابق لیبر پارٹی اپنے تقریباً 1900 کونسلرز سے محروم ہو سکتی ہے جو کہ ان کی کل نشستوں کا 74 فیصد ہے۔ یہ کسی بھی برسرِ اقتدار وزیراعظم کے دور میں پارٹی کی اب تک کی بدترین کارکردگی ہوگی۔

تجزیے میں ریفارم یو کے کے لیے 2260، گرین پارٹی کے لیے 450 اور لبرل ڈیموکریٹس کے لیے 200 نشستوں کی پیشگوئی کی گئی ہے جبکہ کنزرویٹو پارٹی کو بھی ایک ہزار سے زائد نشستوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔ پروفیسر فشر کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو لیبر اور کنزرویٹو دونوں کو غیر معمولی نقصان اٹھانا پڑے گا۔

ان متوقع نتائج کے بعد کیئر سٹارمر کی قیادت پر سوالات اٹھنے کا امکان ہے، اگرچہ لیبر پارٹی کے کچھ رہنما ایران سے منسلک حالیہ بین الاقوامی بحران کے تناظر میں کسی بھی فوری چیلنج کو مسترد کر رہے ہیں۔ تاہم پیٹر مینڈلسن کی بطور امریکی سفیر تقرری جیسے تنازعات نے پارٹی کے اندرونی دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ انتخابی نتائج ووٹرز کی ناراضگی کا عروج ہیں یا زوال کی شروعات۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -