پہلگام واقعے کے بعد بھارتی میڈیا کے کردار پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے اور تجزیہ کاروں کی جانب سے غیر تصدیق شدہ دعووں، اشتعال انگیز بیانیے اور ذمہ دارانہ صحافت کے فقدان پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
راولپنڈی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پہلگام میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کے بعد بھارتی میڈیا کے رویے نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ میڈیا کے مختلف حلقوں پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے شواہد کے بغیر الزامات تراشی کی اور غیر مصدقہ اطلاعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، جس سے غلط معلومات پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوا۔
میڈیا کوریج کے دوران جارحانہ بیانیے کا استعمال کیا گیا اور بعض مبصرین کی جانب سے اشتعال انگیز اقدامات پر زور دیا گیا۔ حکومتی سطح کی معمولی سرگرمیوں کو بھی غیر معمولی پیش رفت کے طور پر دکھایا گیا، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ اس صورتحال کے باعث بھارتی ایئرلائنز کے لیے فضائی حدود کی بندش سے آپریشنل اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانیے اور کشیدگی کو ہوا دینے سے عالمی سطح پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں، خاص طور پر ایک ایسے حساس خطے میں جہاں امن و امان کا معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ بھارتی میڈیا میں داخلی سکیورٹی اور پالیسی امور پر تنقیدی جائزے کی کمی ایڈیٹوریل آزادی اور احتساب کے عمل پر سوالیہ نشان ہے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ علاقائی استحکام اور بین الاقوامی اثرات کے حامل معاملات میں حقائق پر مبنی رپورٹنگ اور ذمہ دارانہ صحافتی اقدار کی پاسداری ناگزیر ہے۔
