رائٹرز اور ایپوس کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق امریکی عوام کی واضح اکثریت پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا ذمہ دار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹھہرا رہی ہے جس کے باعث نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کو شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔
سروے میں شامل 77 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز کا ماننا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے میں صدر ٹرمپ کا کردار نمایاں ہے۔ یہ رائے سیاسی تقسیم سے بالاتر ہو کر سامنے آئی ہے جس میں 55 فیصد ریپبلکن، 82 فیصد آزاد امیدوار اور 95 فیصد ڈیموکریٹس صدر کو اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔
تقریباً 58 فیصد ووٹرز کا کہنا ہے کہ وہ نومبر کے انتخابات میں ایسے امیدواروں کی حمایت کرنے سے گریز کریں گے جو ایران کے ساتھ تنازعہ پر ٹرمپ کی پالیسیوں کی تائید کرتے ہیں۔ فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے نتیجے میں عالمی تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ متاثر ہوا ہے جس کے بعد امریکی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت چار ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکی ہے۔
ریپبلکن مین اسٹریٹ پارٹنرشپ کی صدر سارہ چیمبرلین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر موسم گرما تک ایران کی صورتحال بہتر ہوتی ہے اور ایندھن کی قیمتیں نیچے آتی ہیں تو ریپبلکن پارٹی کی پوزیشن مستحکم ہو سکتی ہے۔
سروے کے اعداد و شمار کے مطابق 77 فیصد امریکی ایندھن کی قیمتوں کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے معاشی دعوؤں کے برعکس 70 فیصد جواب دہندگان اس بات سے متفق نہیں کہ ملکی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ 82 فیصد افراد نے مہنگائی کو ایک بڑی تشویش قرار دیا ہے۔
ریپبلکن اسٹریٹجسٹ ایرن میگوائر کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے قیمتوں کو کم کرنے کے وعدے اور حقیقت کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے جس سے پارٹی کے بیانیے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
سروے میں معاشی امور پر ریپبلکن پارٹی کی روایتی برتری بھی تیزی سے سکڑتی دکھائی دی ہے۔ جنوری 2025 میں ریپبلکنز کو ڈیموکریٹس پر معیشت کے معاملے میں 14 پوائنٹس کی برتری حاصل تھی جو اب کم ہو کر صرف ایک پوائنٹ رہ گئی ہے۔ 15 سے 20 اپریل کے درمیان ہونے والے اس سروے میں ملک بھر سے 4 ہزار 557 افراد کی آراء شامل کی گئیں جن میں 3 ہزار 577 رجسٹرڈ ووٹرز تھے۔ اس سروے میں غلطی کا امکان 2 فیصد تک ہے۔
