غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے گئے تازہ حملوں کے نتیجے میں کم از کم دس فلسطینی جاں بحق ہو گئے ہیں، جن میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ فلسطینی طبی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں جمعہ کے روز غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں کی گئیں۔
غزہ سٹی میں کیے گئے ایک اسرائیلی فضائی حملے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت تین افراد ہلاک ہوئے، جبکہ بیت لاہیہ میں ٹینکوں کی گولہ باری سے دو شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں کیے گئے حملے میں مزید پانچ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
غزہ کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ غزہ سٹی اور خان یونس میں ہونے والے حملوں کا ہدف مقامی پولیس فورس تھی۔ خان یونس میں حملہ ایک پولیس گاڑی کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جو کہ مقامی رہائشیوں اور طبی عملے کے مطابق ایک شادی ہال کے قریب واقع ہوا۔
اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی میں حملے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ہدف حماس کے عسکریت پسند تھے۔ تاہم، فوج کی جانب سے دیگر علاقوں میں ہونے والے حملوں کے حوالے سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ اسرائیلی فوج ماضی میں غزہ میں حماس کے زیر انتظام پولیس فورس پر حملوں میں اضافہ کر چکی ہے، جس کا مقصد علاقے میں حماس کے انتظامی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے۔
اکتوبر 2025 میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود غزہ میں تشدد کا سلسلہ تھم نہ سکا اور اسرائیل کی جانب سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر حملے جاری ہیں۔ طبی حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک 800 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اس دوران چار اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔ اسرائیل اور حماس دونوں ہی ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں۔
غزہ کے محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام کے مطابق حماس کے سات اکتوبر 2023 کے حملوں میں 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
