وائٹ ہاؤس نے جمعہ کے روز اعلان کیا تھا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جنگ بندی کے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں کے لیے اسلام آباد کا دورہ کریں گے، تاہم اب صورتحال میں تبدیلی آ گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے ایلچیوں کو پاکستان جانے سے روک دیا ہے۔ ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر ایران کو مذاکرات کرنے ہیں تو وہ ہمیں کسی بھی وقت کال کر سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ پاکستان کے اختتام کے فوراً بعد سامنے آئی ہے۔ دو پاکستانی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ ہفتے کی شام اسلام آباد سے مسقط روانہ ہو گئے۔
اپنے دورے کے دوران عباس عراقچی نے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں انہوں نے مذاکرات کے حوالے سے ایران کی ریڈ لائنز کا ذکر کیا اور کہا کہ تہران پاکستان کی ثالثی کی کوششوں میں تب تک تعاون جاری رکھے گا جب تک کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہو جاتا۔
خطے میں اگرچہ ایک غیر معینہ مدت کی جنگ بندی کی وجہ سے لڑائی کا سلسلہ تھم چکا ہے، تاہم آبنائے ہرمز کی بندش کے قریب پہنچنے سے تیل، قدرتی گیس اور کھاد سمیت عالمی رسد کا نظام شدید متاثر ہوا ہے جس کے معاشی اثرات بڑھ رہے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ گزشتہ سال اور رواں سال کے اوائل میں جوہری پروگرام پر ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے پیش نظر واشنگٹن پر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے۔
