میکسیکو کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ حال ہی میں شمالی علاقے میں کار حادثے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے دو امریکی وفاقی اہلکار میکسیکو میں کسی بھی آپریشن میں حصہ لینے کے مجاز نہیں تھے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق ہلاک ہونے والے دونوں افراد امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ملازمین تھے، تاہم سی آئی اے کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
واقعہ گزشتہ ہفتے ریاست چیہواہوا میں پیش آیا جب ایک خفیہ منشیات لیبارٹری کو تباہ کرنے کے بعد واپس لوٹنے والا قافلہ حادثے کا شکار ہو گیا۔ گاڑی کھائی میں جا گری اور دھماکے سے پھٹ گئی، جس کے نتیجے میں دو امریکیوں سمیت دو میکسیکن افسران بھی ہلاک ہو گئے۔
میکسیکو کی وزارتِ سیکیورٹی کے بیان کے مطابق ایک امریکی اہلکار سیاحتی ویزے پر جبکہ دوسرا سفارتی پاسپورٹ کے ذریعے ملک میں داخل ہوا تھا۔ وزارت نے واضح کیا کہ ان میں سے کسی کے پاس بھی میکسیکو کی حدود میں آپریشنل سرگرمیوں میں حصہ لینے کی باضابطہ منظوری نہیں تھی۔
میکسیکن حکام کا مزید کہنا ہے کہ انہیں اپنی سرزمین پر غیر ملکی ایجنٹوں کی موجودگی یا کسی آپریشن کے منصوبے کے بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی۔ وزارتِ سیکیورٹی نے زور دیا کہ میکسیکو کا قانون کسی بھی غیر ملکی ایجنٹ کو ملکی حدود میں آپریشن کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
واقعے کے حوالے سے دونوں ممالک کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔ بدھ کے روز میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے اعتراف کیا تھا کہ اس کارروائی میں وفاقی فورسز شامل تھیں، حالانکہ اس سے قبل حکومت اس طرح کی کسی امریکی مداخلت سے لاعلمی کا اظہار کر چکی تھی۔
میکسیکو کی وزارت نے کہا ہے کہ وہ مقامی حکام اور میکسیکو میں امریکی سفارت خانے کے ساتھ مل کر معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ بیان کے آخر میں کہا گیا کہ میکسیکو کی حکومت دونوں ممالک کی سیکیورٹی کے مفاد میں امریکہ کے ساتھ قریبی، سنجیدہ اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات برقرار رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔
