بالی وڈ کی معروف اداکارہ کاجول نے حال ہی میں یوٹیوبر للی سنگھ کے پوڈکاسٹ میں شرکت کے دوران اپنی بیٹی نیسا دیوگن کے ساتھ تعلقات اور پرورش کے دوران پیش آنے والی مشکلات پر کھل کر گفتگو کی ہے۔ کاجول نے تسلیم کیا کہ نسلوں کے فرق اور بدلتے ہوئے دور کے تقاضوں کے باعث انہیں اپنی بیٹی کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے میں تین سال کا طویل عرصہ لگا۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ موجودہ نسل یعنی جنریشن زی کو ٹیکنالوجی کے دور میں معلومات کی بھرمار کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کے پاس معلومات تو بہت زیادہ ہیں لیکن وہ اکثر اس کشمکش میں مبتلا رہتے ہیں کہ انہیں زندگی میں اصل میں کیا کرنا ہے۔ کاجول نے کہا کہ بچے یہ تو جانتے ہیں کہ کیا درست ہے اور کیا غلط، تاہم وہ اپنے فیصلوں میں تذبذب کا شکار رہتے ہیں۔
اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کاجول نے بتایا کہ ان کی بیٹی نیسا اور بیٹے یوگ کی ذہنی ساخت مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کی پرورش کے دوران انہیں زیادہ اعتماد اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ کاجول نے انکشاف کیا کہ جب نیسا بارہ برس کی ہوئیں تو ہارمونز میں تبدیلی کے باعث ان کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوئے، جس کی وجہ سے وہ دونوں اکثر غیر منطقی رویہ اختیار کر لیتی تھیں۔
کاجول نے بتایا کہ وہ تین سال کا دور انتہائی مشکل تھا جب ماں بیٹی کے درمیان بات چیت کا سلسلہ بھی منقطع رہا۔ تاہم بعد ازاں انہوں نے بطور والدین خود کو سنبھالا اور یہ سمجھا کہ انہیں ایک بالغ فرد کی طرح زیادہ عقلی رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔
اداکارہ نے اس بات پر زور دیا کہ والدین کے لیے سب سے بڑی سیکھ یہ ہے کہ وہ بچوں کو نصیحت کرنے کے بجائے ان کی بات سنیں۔ کاجول کے مطابق جب انہوں نے نیسا کو اپنی بات کہنے کی جگہ دی اور خاموشی سے انہیں سنا، تو اس سے ان کے تعلقات میں مثبت تبدیلی آئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بچوں کو ہر وقت ہدایات دینے کے بجائے انہیں اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا موقع دینا چاہیے۔
واضح رہے کہ کاجول اور اداکار اجے دیوگن 1999 میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے اور ان کے دو بچے نیسا اور یوگ ہیں۔
