نئی دہلی نے بنگلہ دیش کے ساتھ سفارتی تعلقات کو ازسرنو استوار کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے تجربہ کار سیاست دان دنیش ترویدی کو بنگلہ دیش میں اپنا نیا ہائی کمشنر نامزد کر دیا ہے۔ یہ تقرری اس لیے غیر معمولی ہے کیونکہ بھارت نے روایتی سفارت کار کے بجائے ایک سیاسی شخصیت کو اس اہم عہدے پر تعینات کیا ہے۔
دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی تھی جب سن 2024 میں بنگلہ دیش میں عوامی احتجاج کے نتیجے میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی وزیر اعظم شیخ حسینہ کو ملک چھوڑ کر نئی دہلی میں پناہ لینی پڑی تھی، جہاں وہ تاحال موجود ہیں۔
پچھتر سالہ دنیش ترویدی ماضی میں وفاقی وزیر برائے ریلوے اور صحت رہ چکے ہیں۔ انہوں نے سن 2021 میں مغربی بنگال کی ایک علاقائی جماعت چھوڑ کر وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تقرری بنگلہ دیش میں بڑھتے ہوئے چینی اثر و رسوخ کے مقابلے میں بھارت کی جانب سے اعتماد بحال کرنے کی ایک کوشش ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق دنیش ترویدی جلد ہی اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیں گے۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے آثار فروری میں ہونے والے انتخابات کے بعد نظر آئے، جس میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے طارق رحمان اقتدار میں آئے۔ اس سے قبل عبوری حکومت کا جھکاؤ چین کی جانب زیادہ تھا۔
بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے رواں ماہ نئی دہلی کا دورہ کیا تھا جس میں ایندھن اور کھاد کی فراہمی، توانائی کے شعبے میں تعاون اور سفری پابندیوں میں نرمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تاہم دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ تاحال شیخ حسینہ کی حوالگی کا معاملہ ہے جس پر بھارت نے اب تک کوئی مثبت ردعمل نہیں دیا ہے۔
