-Advertisement-

کویت میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت: ڈیموکریٹک سینیٹرز کی پینٹاگون کے خلاف تحقیقات کا آغاز

تازہ ترین

آبنائے ہرمز کی بندش عالمی امن اور ترقی پذیر ممالک کے لیے خطرہ ہے، پاکستان

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بحران کے حل کے...
-Advertisement-

امریکی سینیٹ کے چار ڈیموکریٹک ارکان نے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی ڈرون حملے کے حوالے سے پینٹاگون کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس حملے میں چھ امریکی فوجی ہلاک اور بیس سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ سینیٹرز یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا پینٹاگون نے فوجیوں کو کافی حفاظتی انتظامات کے بغیر خطرناک پوزیشن پر تعینات کیا تھا۔

یہ تحقیقات اس وقت شروع کی گئی ہیں جب بیس پر تعینات فوجیوں نے انکشاف کیا کہ انہیں ایک ایسے مقام پر غیر محفوظ چھوڑ دیا گیا تھا جو پہلے سے ہی ایرانی ڈرونز کے نشانے پر تھا۔ متاثرہ یونٹ کے ارکان نے پہلی بار عوامی سطح پر اس حملے کی تفصیلات بیان کی ہیں جو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے آغاز میں پیش آیا تھا۔

سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چار ڈیموکریٹک سینیٹرز نے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کو لکھے گئے خط میں پینٹاگون کی تیاریوں پر سوال اٹھائے ہیں۔ سینیٹرز نے پوچھا ہے کہ کیا انتظامیہ خطے میں امریکیوں کو ایرانی انتقامی کارروائیوں سے بچانے میں ناکام رہی۔

واقعے کے اگلے روز پریس کانفرنس میں پیٹ ہیگسیٹھ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی ڈرون ایک ایسا ہتھیار تھا جو اتفاق سے ایک مضبوط ٹیکٹیکل آپریشن سینٹر سے ٹکرا گیا۔ تاہم، آرمی کی 103 ویں سسٹینمنٹ کمانڈ کے زندہ بچ جانے والے فوجیوں نے وزیر دفاع کے بیان کو مسترد کر دیا۔ ایک زخمی فوجی کا کہنا ہے کہ یہ کہنا کہ ایک ڈرون غلطی سے نکل آیا سراسر جھوٹ ہے، یونٹ اپنا دفاع کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں تھی اور یہ کوئی مضبوط پوزیشن نہیں تھی۔

فوجیوں کے مطابق، یہ آپریشن سینٹر عراق اور افغانستان کی جنگوں کے پرانے طرز پر قائم تھا، جہاں کنکریٹ کی دیواریں صرف راکٹ یا مارٹر حملوں سے بچاؤ کے لیے تھیں، جبکہ فضائی حملوں کے خلاف ان میں کوئی حفاظتی صلاحیت نہیں تھی۔

سینیٹرز کرسٹن گلبرینڈ، الزبتھ وارن، رچرڈ بلومینتھل اور مارک کیلی نے جنگ شروع ہونے سے قبل کویت میں واقع اس پوسٹ کے خطرات کے جائزے کے بارے میں معلومات طلب کی ہیں۔ ایک فوجی نے بتایا کہ ان کے پاس انٹیلی جنس رپورٹس موجود تھیں جن میں اس پوسٹ کو ایرانی حملوں کا ممکنہ ہدف قرار دیا گیا تھا۔

سینیٹر الزبتھ وارن نے اپنے بیان میں کہا کہ سیکرٹری ہیگسیٹھ نے فوجیوں کو لڑنے کے لیے بھیجا، انہیں بچانے کے لیے بنیادی اقدامات نہیں کیے اور پھر اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہیگسیٹھ کو اپنی قیادت کی ناکامیوں کا جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

محکمہ دفاع نے جاری تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ تاہم اسسٹنٹ سیکرٹری آف ڈیفنس شان پارنیل نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ فوجیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا گیا تھا۔ پیٹ ہیگسیٹھ بدھ کو ایوان کی کمیٹی اور جمعرات کو سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر وضاحت دیں گے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -