-Advertisement-

آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول یا ٹول کسی صورت قبول نہیں، مارکو روبیو

تازہ ترین

برطانوی بادشاہ چارلس کا امریکی کانگریس سے خطاب، برطانیہ اور امریکا کے مابین تعلقات کے فروغ پر زور

برطانوی بادشاہ چارلس سہ پہر تین بجے امریکی کانگریس سے خطاب کریں گے، جس میں وہ برطانیہ اور امریکہ...
-Advertisement-

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اپنے اعلیٰ سکیورٹی مشیروں کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد کیا جس میں ایران کی جانب سے پیش کردہ اس تجویز پر غور کیا گیا جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی بات کی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ پیش رفت جنگ کے حوالے سے جاری وسیع تر مذاکرات کا حصہ ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران کا موجودہ موقف امریکی مطالبات کے برعکس ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران آبنائے کھولنے کے عوض یہ شرط رکھتا ہے کہ جہاز رانی کے لیے ان سے اجازت لی جائے یا بھتہ ادا کیا جائے تو اسے آبنائے کا کھلنا قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مارکو روبیو نے مزید کہا کہ امریکہ اس نظام کو ہرگز قبول نہیں کرے گا جس میں ایران یہ فیصلہ کرے کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ کا استعمال کون کرے گا اور اس کے بدلے میں کتنی ادائیگی کرنی ہوگی۔ واضح رہے کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تیل اور مائع قدرتی گیس کا پانچواں حصہ اسی اہم گزرگاہ سے گزرتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بریفنگ کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ نے پیر کی صبح اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ ملاقات کی ہے جس میں ایرانی تجویز پر بات چیت کی گئی۔ تاہم انہوں نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ آیا صدر اس تجویز کو قبول کریں گے یا نہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مجوزہ منصوبے میں ایران اور امریکہ کی جانب سے مزید مذاکرات سے قبل اپنی ناکہ بندی ختم کرنے کی پیشکش کی گئی ہے تاکہ تہران کے جوہری پروگرام جیسے حساس معاملات پر بات چیت کی جا سکے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے حوالے سے طے کردہ سرخ لکیریں امریکی عوام اور ایرانی قیادت دونوں پر بالکل واضح ہیں۔ اس سے قبل اے بی سی نیوز نے دو امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی یہ پیشکش واشنگٹن کی شرائط پر پورا نہیں اترتی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -