بیجنگ آٹو شو کے حالیہ انعقاد نے عالمی آٹو مارکیٹ میں چین کی بڑھتی ہوئی برتری اور مسابقت کو واضح کر دیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق چین میں گاڑیوں کی قیمتیں دنیا کی دوسری بڑی مارکیٹ یعنی امریکہ کے مقابلے میں انتہائی کم سطح پر آ گئی ہیں۔ کیلی بلیو بک کی رپورٹ کے مطابق مارچ میں امریکہ میں نئی گاڑی کی اوسط قیمت 51 ہزار 456 ڈالر ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کے برعکس چین میں 200 سے زائد الیکٹرک اور ہائبرڈ ماڈل 25 ہزار ڈالر سے کم قیمت میں دستیاب ہیں۔
ڈی کار پلیٹ فارم کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ایک امریکی صارف جتنی رقم میں اپنے ملک میں ایک اوسط نئی گاڑی خریدتا ہے، اتنی ہی رقم میں چین کا صارف پانچ چھوٹی الیکٹرک گاڑیاں خرید سکتا ہے۔ ان گاڑیوں میں جیلی ای ایکس 2 سرفہرست ہے جو 2025 میں چین کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی گاڑی رہی۔ اس گاڑی میں 14.6 انچ کی ٹچ اسکرین اور جدید فیچرز موجود ہیں، اور اس کی رینج 255 میل تک ہے۔ آٹو تجزیہ کار فلیپے مونوز کے مطابق اس گاڑی کا معیار اور سائز اس کی قیمت کے مقابلے میں غیر معمولی ہے۔
مارکیٹ میں موجود دیگر سستی گاڑیوں میں وولنگ منی ای وی شامل ہے، جو اپنی کم قیمت اور چھوٹے سائز کی وجہ سے مقبول ہے۔ یہ گاڑی اتنی مختصر ہے کہ ایک عام امریکی فورڈ ایف 150 جتنی جگہ میں دو منی ای ویز کھڑی کی جا سکتی ہیں۔ وولنگ کی ہی بنگو پرو بھی ہائی وے کے سفر کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے جس کی رینج 250 میل ہے۔
بی وائی ڈی کمپنی چین میں چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں کی سب سے بڑی مینوفیکچرر کے طور پر ابھری ہے۔ کمپنی کے تین بڑے ماڈل، جن کی قیمت 12 ہزار ڈالر سے کم ہے، گزشتہ ایک سال کے دوران چین میں سات لاکھ کی تعداد میں فروخت ہوئے۔ بی وائی ڈی سی گل ماڈل اپنی شاندار کارکردگی اور قیمت کی وجہ سے مارکیٹ میں ایک سنسنی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ 2026 کے سی گل ماڈل میں اب لیڈر ریموٹ سینسنگ سسٹم اور 314 میل تک کی رینج جیسے جدید فیچرز شامل کیے گئے ہیں۔ ماضی میں بی وائی ڈی نے لاگت کم کرنے کے لیے سی گل میں ایک وائپر لگایا تھا، تاہم صارفین کی شکایات کے بعد 2026 کے ماڈل میں دو وائپرز کو معیاری بنا دیا گیا ہے۔
