-Advertisement-

گوگل کا پینٹاگون کے ساتھ خفیہ مصنوعی ذہانت کے معاہدے پر دستخط

تازہ ترین

برطانوی بادشاہ چارلس کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات، امریکی کانگریس سے خطاب متوقع

برطانوی شاہ چارلس سوئم امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے دورے کے دوران دونوں ممالک کے...
-Advertisement-

گوگل نے امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ خفیہ نوعیت کے کاموں کے لیے اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز فراہم کرنے کا معاہدہ طے کر لیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد گوگل ان ٹیکنالوجی کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو امریکی پینٹاگون کو حساس امور کے لیے ٹیکنالوجی فراہم کر رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کے تحت پینٹاگون گوگل کی مصنوعی ذہانت کو کسی بھی قانونی سرکاری مقصد کے لیے استعمال کرنے کا مجاز ہوگا۔ اس سے قبل اوپن اے آئی اور ایلون مسک کی ایکس اے آئی جیسی کمپنیاں بھی اسی طرح کے معاہدے کر چکی ہیں۔

خفیہ نیٹ ورکس کا استعمال مشن کی منصوبہ بندی اور ہتھیاروں کے اہداف کے تعین جیسے حساس امور کے لیے کیا جاتا ہے۔ سال 2025 میں پینٹاگون نے اینتھروپک، اوپن اے آئی اور گوگل جیسی بڑی اے آئی لیبز کے ساتھ 200 ملین ڈالر مالیت تک کے معاہدے کیے ہیں۔

معاہدے کی شرائط کے مطابق گوگل کو امریکی حکومت کی درخواست پر اپنی اے آئی کی حفاظتی ترتیبات اور فلٹرز میں تبدیلی میں مدد کرنی ہوگی۔ معاہدے میں اس بات کا ذکر موجود ہے کہ اے آئی سسٹم کو انسانی نگرانی کے بغیر بڑے پیمانے پر نگرانی یا خود کار ہتھیاروں کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ تاہم اس میں یہ شق بھی شامل ہے کہ یہ معاہدہ کسی بھی قانونی حکومتی آپریشنل فیصلے کو کنٹرول کرنے یا اسے ویٹو کرنے کا حق نہیں دیتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی محکمہ دفاع کا نام تبدیل کر کے محکمہ جنگ رکھنے کے بعد اس معاہدے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ گوگل پبلک سیکٹر کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ نیا معاہدہ ان کے موجودہ کنٹریکٹ میں ایک ترمیم ہے۔ پینٹاگون طویل عرصے سے بڑی اے آئی کمپنیوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ اپنے ٹولز کو ان خفیہ نیٹ ورکس پر دستیاب کریں جہاں عام صارفین پر لاگو پابندیاں لاگو نہ ہوں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -