-Advertisement-

ایران تنازع کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 110 ڈالر تک پہنچ گئی

تازہ ترین

متحدہ عرب امارات کا اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان، عالمی تیل منڈی کو بڑا دھچکا

متحدہ عرب امارات نے منگل کے روز اوپیک اور اوپیک پلس گروپ سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے،...
-Advertisement-

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جس کے نتیجے میں منگل کے روز عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایران کی جانب سے تنازع کے حل کے لیے پیش کردہ نئی تجاویز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عدم اطمینان نے امن کی امیدوں کو دھندلا دیا ہے، کیونکہ اس منصوبے میں ایران کے جوہری پروگرام کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

اس تعطل کے باعث آبنائے ہرمز سے توانائی کی ترسیل بدستور معطل ہے، جس کے اثرات عالمی منڈی پر مرتب ہوئے ہیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 2.7 فیصد اضافے کے ساتھ 111.20 ڈالر فی بیرل کی تین ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 2.9 فیصد اضافے کے بعد 99.10 ڈالر فی بیرل رہی۔

ہارگریوز لینس ڈاؤن کے سینئر ایکویٹی اینلسٹ میٹ برٹزمین کا کہنا ہے کہ اگر توانائی کی ترسیل میں رکاوٹیں طویل رہیں تو بلند توانائی اخراجات معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ منگل کو امریکی اسٹاک انڈیکس ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں 0.1 فیصد اور نیس ڈیک میں 0.4 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔ سرمایہ کاروں کی نظریں اب مائیکروسافٹ، ایلفابیٹ، ایمیزون، میٹا اور ایپل جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مالیاتی نتائج پر مرکوز ہیں۔

ادھر جاپان کے مرکزی بینک نے قلیل مدتی شرح سود کو 0.75 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بینک آف جاپان کے پالیسی سازوں کے درمیان 6-3 کے تناسب سے تقسیم شدہ ووٹنگ نے مستقبل میں شرح سود میں اضافے کے امکانات کو تقویت دی ہے۔ اس صورتحال میں جاپانی ین کی قدر میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور یہ 159.53 فی ڈالر کے قریب رہا، جس سے مارکیٹ میں تشویش پائی جاتی ہے کہ ٹوکیو کرنسی کی حمایت کے لیے مداخلت کر سکتا ہے۔

مونیکس یورپ کے ہیڈ آف میکرو ریسرچ نک ریس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں جاری اتار چڑھاؤ عالمی منڈیوں کو متاثر کر رہا ہے اور امن عمل کے بارے میں شکوک و شبہات ڈالر کی قدر میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ رواں ہفتے امریکی فیڈرل ریزرو، بینک آف انگلینڈ اور یورپی مرکزی بینک کے اہم فیصلوں پر بھی عالمی سرمایہ کاروں کی گہری نظریں لگی ہوئی ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -