-Advertisement-

متحدہ عرب امارات کا اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان، عالمی تیل منڈی کو بڑا دھچکا

تازہ ترین

شمالی لندن: ایرانی حکومت مخالفین کی یادگاری دیوار پر آتش زنی کی کوشش، انسداد دہشت گردی پولیس متحرک

برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں آتش زنی کی ایک اور مشکوک واردات پیش آئی ہے۔...
-Advertisement-

متحدہ عرب امارات نے منگل کے روز اوپیک اور اوپیک پلس گروپ سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے، جو تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اور اس کے غیر اعلانیہ قائد سعودی عرب کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران جنگ کے باعث عالمی معیشت توانائی کے تاریخی بحران سے دوچار ہے۔

متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وام کے مطابق یہ فیصلہ ملک کی پیداواری پالیسی کے جامع جائزے اور قومی مفادات کے تحت کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کرنے اور مستقبل کی پیداواری صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے۔ یہ علیحدگی یکم مئی سے نافذ العمل ہوگی۔

اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مارکیٹ کے بدلتے ہوئے رجحانات کے مطابق لچک پیدا کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس پیش رفت سے اوپیک کے اندرونی اتحاد کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، کیونکہ امارات اس تنظیم کا ایک دیرینہ اور اہم رکن رہا ہے۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک پہلے ہی آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں مشکلات کا شکار ہیں۔ ایران کی جانب سے جہازوں کو دھمکیاں اور حملے عالمی سپلائی چین کے لیے مسلسل چیلنج بنے ہوئے ہیں، جہاں سے دنیا بھر کا پانچواں حصہ خام تیل گزرتا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات کے اس فیصلے کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ صدر ٹرمپ ماضی میں اوپیک پر تیل کی قیمتیں بڑھا کر دنیا کو لوٹنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں اور انہوں نے خلیجی ممالک کو ملنے والی امریکی فوجی مدد کو تیل کی قیمتوں سے مشروط کیا تھا۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متحدہ عرب امارات نے ایران کے حالیہ حملوں کے بعد عرب ممالک کے ردعمل پر شدید تنقید کی ہے۔ اماراتی صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے گلف انفلوئنسرز فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کا سیاسی اور عسکری موقف تاریخی طور پر سب سے کمزور رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں عرب لیگ سے تو ایسی ہی توقع تھی تاہم خلیجی تعاون کونسل کا رویہ ان کے لیے حیران کن اور مایوس کن ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -