اٹلی میں صنفی مساوات اور خاندانی ذمہ داریوں کے بدلتے ہوئے رجحانات کے درمیان، ڈیڈ انفلوئنسرز ایک نئی سماجی تحریک کو جنم دے رہے ہیں۔ میلان کے مضافات میں مقیم ڈیگو ڈی فرانکو جیسے والد اب سوشل میڈیا کے ذریعے بچوں کی پرورش اور گھریلو ذمہ داریوں کو ایک نئے زاویے سے پیش کر رہے ہیں۔
اطالوی پارلیمنٹ نے رواں برس فروری میں زچگی اور پدری رخصت کو برابر کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ اس وقت اٹلی میں ماؤں کے لیے پانچ ماہ جبکہ والد کے لیے صرف دس دن کی رخصت کا قانون نافذ ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے اسپین کی طرز پر مساوی اور مکمل تنخواہ کے ساتھ والدین کی رخصت کا بل 117 کے مقابلے میں 137 ووٹوں سے ناکام ہو گیا تھا، جس کی وجہ حکومتی حلقوں نے بجٹ کی رکاوٹوں کو قرار دیا۔
ملک میں خواتین کو ملازمت کے حصول میں یورپ کے سب سے بڑے فرق کا سامنا ہے اور اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں خواتین کی ملازمت کی شرح 53 فیصد رہی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کام اور گھریلو ذمہ داریوں میں عدم توازن کے باعث خواتین کی ایک بڑی تعداد بچے کی پیدائش کے بعد نوکری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہے، جو معاشی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
سماجی ماہر اینینا لبک کا کہنا ہے کہ ڈیڈ بلاگرز کا بڑھتا ہوا رجحان والد کے روایتی کردار کو تبدیل کر رہا ہے اور اسے زیادہ مساوی اور پرکشش بنا رہا ہے۔ ڈیگو ڈی فرانکو، جن کے انسٹاگرام پر 50 ہزار سے زائد فالوورز ہیں، اپنی اہلیہ رافیلا کے ساتھ مل کر گھریلو ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ رافیلا کا ماننا ہے کہ شوہر کا تعاون ہی ان کی پیشہ ورانہ کامیابی کا راز ہے۔
اگرچہ اٹلی ابھی بھی فرسودہ سماجی ڈھانچے سے نکلنے کی کوشش میں ہے، تاہم ڈیگو جیسے افراد پر امید ہیں کہ حالات بدل رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ چھ سال قبل کنڈرگارٹن میں وہ واحد والد تھے جو بچوں کو لینے آتے تھے، لیکن اب وہاں ایسے والد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق خواتین کی ملازمت میں شمولیت میں اضافہ ہی اٹلی کی گرتی ہوئی آبادی اور معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
