لاہور ہائی کورٹ نے نو مئی کے ہنگامہ آرائی کیسز میں سزا معطلی کی اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما افضل عظیم پہوڑ کی سزا معطل کر دی جبکہ اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید کی اسی نوعیت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔
جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے سنائی گئی دس سال قید کی سزاؤں کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت کی۔ عدالت نے شیرپاؤ برج پر ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں افضل عظیم پہوڑ کی سزا معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔
عدالتی بینچ نے اعجاز چوہدری کی چار اور میاں محمود الرشید کی ایک درخواست کو مسترد کر دیا۔ سماعت کے دوران ملزمان کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے حقائق کے منافی ہیں اور ملزمان ڈھائی سال سے زائد عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں۔ انہوں نے استدعا کی کہ مرکزی اپیلوں پر حتمی فیصلے تک سزائیں معطل کی جائیں۔
اس کے برعکس اسپیشل پراسیکیوٹر نے درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ نو مئی کے واقعات ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھے۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو بعد ازاں سنا دیا گیا۔
