-Advertisement-

شمالی لندن: ایرانی حکومت مخالفین کی یادگاری دیوار پر آتش زنی کی کوشش، انسداد دہشت گردی پولیس متحرک

تازہ ترین

کمبوڈیا میں زیر حراست 54 پاکستانیوں کی وطن واپسی پر اتفاق

دفتر خارجہ نے منگل کے روز تصدیق کی ہے کہ حکومت پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان 54 پاکستانی شہریوں...
-Advertisement-

برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں آتش زنی کی ایک اور مشکوک واردات پیش آئی ہے۔ برطانوی پولیس کے مطابق اس بار ایران میں ہلاک ہونے والے افراد کی یادگار دیوار کو نشانہ بنایا گیا، تاہم خوش قسمتی سے یادگار کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پیر کی صبح سویرے پیش آیا۔ حکام نے اسے فی الحال دہشت گردی قرار نہیں دیا ہے، البتہ تفتیش کی قیادت کاؤنٹر ٹیرر پولیس کر رہی ہے۔ واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی کسی کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کے محرکات جاننے کے لیے ہر پہلو سے تحقیقات کر رہے ہیں۔

یہ یادگار ایک یہودی اولڈ ایج ہوم کے سامنے واقع ہے۔ گزشتہ ماہ اسی علاقے میں یہودی ایمبولینس سروس کی گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا تھا۔ اس واقعے کی ذمہ داری حرکت اصحاب الیمین الاسلامیہ نامی تنظیم نے قبول کی تھی، جس نے یورپ بھر میں یہودی اداروں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے رکھی ہیں۔

شمال مغربی لندن کے پولیس سربراہ نے کہا ہے کہ حالیہ واقعات سے مقامی رہائشیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ پولیس نے علاقے میں سیکیورٹی بڑھا دی ہے اور مسلح گشت کے ساتھ ساتھ پروجیکٹ سرویٹر کے تحت خصوصی تربیت یافتہ اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ جرم کو روکا جا سکے۔

حرکت اصحاب الیمین الاسلامیہ نے حال ہی میں لندن میں دیگر واقعات کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے، جن میں 15 اپریل کو فارسی زبان کے میڈیا ہاؤس پر آتش زنی کی کوشش اور 19 اپریل کو کینٹن میں ایک عبادت گاہ پر حملہ شامل ہے۔ عبادت گاہ والے واقعے میں ایک 17 سالہ نوجوان جرم کا اعتراف کر چکا ہے۔

کمیونٹی سیکیورٹی ٹرسٹ کے اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں 2025 کے دوران یہود دشمنی کے 3700 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو تنظیم کی تاریخ میں دوسری بلند ترین سطح ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -