دفتر خارجہ نے منگل کے روز تصدیق کی ہے کہ حکومت پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان 54 پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی پر باضابطہ اتفاق ہو گیا ہے۔ ان افراد کو سیئم ریپ صوبے میں ایک غیر قانونی سکیمنگ کمپاؤنڈ کے خلاف کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق کمبوڈیا میں اس وقت 200 سے زائد پاکستانی شہری زیر حراست ہیں۔ یہ افراد دھوکہ دہی کے ذریعے انسانی سمگلنگ کا شکار ہوئے اور انہیں زبردستی مجرمانہ نیٹ ورکس کے غیر قانونی آپریشنز میں ملوث کیا گیا تھا۔ کمبوڈین حکام کے کریک ڈاؤن کے بعد یہ افراد مشکل حالات میں قید کا سامنا کر رہے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندراپی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ کمبوڈیا میں پاکستانی سفارت خانہ اس معاملے پر کمبوڈین حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کی ان ہدایات کے عین مطابق ہے جن میں بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سفارت خانے کا عملہ زیر حراست پاکستانیوں کی بہبود کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے اور فلائٹ کے انتظامات مکمل ہوتے ہی ان کی واپسی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔
کمبوڈین حکام نے خیر سگالی کے جذبے کے تحت ان شہریوں کو وطن واپس بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان پر سات اپریل کو نافذ ہونے والے قانون برائے انسداد آن لائن سکیمز کے تحت کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اس قانون کے تحت سنگین سزائیں اور بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کمبوڈیا میں گزشتہ چند برسوں کے دوران اربوں ڈالر کی سکیمنگ انڈسٹری پھیلی ہے جس میں ہزاروں افراد ملوث ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق کمبوڈین حکومت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، بشمول انسانی سمگلنگ اور جبری مشقت کے واقعات کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ کمبوڈیا میں کم از کم 53 ایسے کمپاؤنڈز موجود ہیں جہاں مجرمانہ گروہ انسانیت سوز مظالم ڈھاتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے امریکی محکمہ خزانہ نے کمبوڈیا کے سینیٹر کوک آن سمیت 28 افراد اور اداروں کو امریکی شہریوں کے ساتھ فراڈ میں ملوث ہونے پر بلیک لسٹ کر دیا تھا۔
