واشنگٹن میں ہونے والے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت اپنی موجودہ مدت کے کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ رائٹرز اور ایپوسس کی جانب سے کیے گئے چار روزہ عوامی جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف 34 فیصد امریکی ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں، جبکہ اپریل کے وسط میں کیے گئے پچھلے سروے میں یہ شرح 36 فیصد تھی۔
امریکی شہریوں کی جانب سے ٹرمپ کی حمایت میں کمی کی بڑی وجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایران کے ساتھ غیر مقبول جنگ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ایک گیلن پیٹرول کی قیمت 4.18 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کرنے والوں کی شرح صرف 27 فیصد رہ گئی ہے، جو کہ ان کے 2017 سے 2021 کے دورِ صدارت اور جو بائیڈن کے کمزور ترین معاشی ریٹنگ کے دور سے بھی کم ہے۔ مہنگائی کے معاملے پر ٹرمپ کی کارکردگی کو صرف 22 فیصد افراد نے درست قرار دیا ہے۔
سروے میں شامل 78 فیصد ریپبلکنز اب بھی ٹرمپ کی حمایت کرتے ہیں، تاہم پارٹی کے اندر ہی 41 فیصد افراد مہنگائی پر قابو پانے میں صدر کی ناکامی پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے حوالے سے آزاد ووٹرز کا رجحان ڈیموکریٹس کی جانب زیادہ نظر آتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی ضیافت کے دوران پیش آنے والا سکیورٹی واقعہ، جس میں ایک مسلح شخص کو صدر پر حملے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا گیا، اس سروے کے نتائج کے بعد پیش آیا۔ لہذا یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس واقعے کے بعد عوامی رائے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث خلیج فارس سے تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں کھڑی ہیں، جس سے عالمی اور امریکی توانائی کے بحران میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ سروے میں صرف 34 فیصد امریکیوں نے ایران کے ساتھ تنازعے کو درست قرار دیا ہے۔ یہ سروے 1269 امریکی بالغ شہریوں کی آراء پر مبنی ہے جس میں غلطی کا امکان 3 فیصد تک ہے۔
